site
stats
شاعری

فنکار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا

فنکار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
بجھتا ہوا دِیا نہ مقابل ہوا کے لا​

دریا کا اِنتقام ڈبو دے نہ گھر تیرا
ساحِل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا​

تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گُل
تھوڑی سی اُس کے جسم کی خُوشبو چُرا کے لا​

گر سوچنا ہے اہل مشیت کے حوصلے
میدان سے گھر میں اِک میت اُٹھا کے لا​

محسن اب اُس کا نام ہے سب کی زبان پر
کِس نے کہا تھا اُس کو غزل میں سجا کے لا​

**********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top