The news is by your side.

Advertisement

فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سیکریٹری داخلہ یقینی بنائیں کہ فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین مذہب مقدمات اندراج کے خلاف پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی حفاظتی ضمانت کی دائر درخواست کی سماعت کی۔

عدالت عالیہ میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی نیوز کانفرنس ،مریم نواز کے بیانات پڑھ کر سنائے اور کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شیخ رشید سمیت ساتھیوں کا گھروں سے نکلنا مشکل کرسکتا ہوں جب کہ مریم نواز نے کہا تھا کہ عمران خانہ فتنہ ہے جسے کرش کرنا چاہیے۔

ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ 7رکنی بینچ کا فیصلہ ہے کہ ایک واقعےکی ایک سے زائد ایف آئی آرنہیں ہوسکتی، واقعہ مدینہ منورہ میں ہوا اور یہاں مقدمات درج کر لئے گئے، اسلام آباد کے دو تھانوں میں بھی مقدمات درج کیے گئے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام مقدمات کی فہرست عدالت کے سامنے رکھی جائے، مقدمات پر پٹیشنر سمیت پی ٹی آئی کے لیڈرز اور کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا فواد چوہدری تاحال ممبر قومی اسمبلی ہیں؟ جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ فواد چوہدری ایم این اے کی نشست سے مستعفی ہو چکے ہیں مگر انہیں ابھی ڈی نوٹیفائی نہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب تک ڈی نوٹیفائی نہ ہو، اسپیکرکی اجازت کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی، ہم عدالت کے دائرہ اختیار تک پولیس کو ہدایات جاری کر دیتے ہیں کہ آئندہ سماعت تک ان کےخلاف کوئی کارروائی بھی نہ کی جائے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ یقینی بنائیں کہ فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے عدالتی احکامات کی نقل سیکریٹری قومی اسمبلی کو بھی بھجوانے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے احاطہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے دو پٹیشنز اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کیں شہباز گل کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی، دوسری درخواست ہراسانی سے متعلق تھی جس پر عدالت نے پولیس کو فواد چوہدری کیخلاف آئندہ پیر 9 مئی تک مزید کاروائی سے روک دیا ہے۔

مزید پڑھیں: عدالت نے شہباز گل کو امریکا سے وطن واپسی پر گرفتاری سے روک دیا

انہوں نے کہا کہ آج تحریک انصاف کو بڑا ریلیف ملا ہے، حکومت کو آئین و قانون کے مطابق چلنا چاہیے، عید کی چھٹیوں کے بعد عدالت عظمی کا دروازہ بھی کھٹکٹائیں گے اور امید ہے چیف جسٹس اس معاملے کا نوٹس لیں گے۔

ایڈووکیٹ فیصل جاوید کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریلیف نہ ملنے پر عدالت پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، آج انہی عدالتوں سےہمیں ریلیف ملا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں