The news is by your side.

Advertisement

فرانس کی ترکی اور کرد جنگجوؤں کے درمیان ثالثی کی پیشکش

دمشق: فرانس نے شام میں جاری جنگ کے پیش نظر ترکی اور کرد باغیوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش ہے۔ پیشکش کو ترکی کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پیشکش ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ کردستان کارکن پارٹی کے جنگجوؤں نے ترک فوج پر حملہ کیا جس میں 5 ترک فوجی جاں بحق ہوئے۔

یاد رہے کہ کالعدم کردستان کارکن پارٹی نے تین دہائیوں تک ترکی میں کرد شہریوں کے حقوق کے لیے لڑائی لڑی ہے اور ترکی اب اس جماعت کو دہشت گرد جماعت قرار دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: کرد جنگجوؤں نے شامی فوج سے معاہدہ کرلیا

ترکی نے رواں برس جنوری سے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ ایک روز قبل ترکی کے جنوب مشرقی صوبے سیرت میں کردستان کارکن پارٹی کے جنگجوؤں نے ترک فوجیوں پر حملہ کیا تھا جس میں 5 فوجی جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق یہ حملہ ترکی کی کردوں کے خلاف کارروائی کے جواب میں کالعدم پارٹی کی جانب سے ایک انتقامانہ کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب چند روز قبل فرانسیسی صدر ایمائیل میکرون نے شامی ڈیمو کریٹک فورس (جس میں کردوں کا اثر و رسوخ ہے) اور وائی پی جی (عوامی حفاظتی دستے) کے وفد سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں فرانسیسی صدر نے ترکی اور کرد جنگجوؤں کے درمیان مذاکرات کی امید ظاہر کی تھی۔

فرانسیسی صدر کے دفتر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ صدر نے شامی ڈیمو کریٹک فورس کے ان جنگجوؤں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو داعش کے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مزید پڑھیں: شام و عراق میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردیں گے، ترک صدر

یاد رہے کہ شامی ڈیمو کریٹک فورس داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کے ایک اہم اتحادی کے طور پر کام کر رہی ہے جبکہ عوامی حفاظتی دستہ بھی اس کا حصہ ہے۔ امریکا اور فرانس دونوں تنظیموں کے جنگجوؤں کو داعش سے لڑنے کے لیے تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

وائی پی جی کردستان کارکن پارٹی سے کسی بھی قسم کے سیاسی یا عسکری رابطے سے انکار کرتی ہے اور امریکا بھی اس دعوے کی حمایت کرتا ہے۔

تاہم ترکی نے فرانس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر کے ایک ترجمان ابراہیم کلن کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو فوری مسترد کردیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام ممالک کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مضبوط مؤقف اپنانا چاہیئے۔

ترکی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ترکی اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان مذاکرات، رابطے یا ثالثی کو فروغ دینے والی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں