The news is by your side.

Advertisement

گجرپورہ زیادتی کیس میں پیچیدگیاں، پولیس کو تفتیش میں مشکلات کا سامنا

لاہور: پنجاب کے علاقے گجر پورہ زیادتی کیس میں پیچیدگیوں کی وجہ سے پولیس کو تفتیش کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق گجرپورہ زیادتی کیس میں پنجاب پولیس تذبذب کا شکار  ہے، جائے وقوعہ پر پہلے پہنچنے والے کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ سردار شہزاد اور جنید جائے وقوعہ پر پہلے پہنچنے کا دعویٰ کیا جبکہ ڈولفن پولیس اہلکار  کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے مذکورہ مقام پر پہنچے، دونوں کے بیانات میں تضاد کی وجہ سے بھی پولیس کو تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈولفن اہلکار نے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں بتایا کہ وقوعہ پر خاتون کے پاس سب سے پہلے انکی ٹیم پہنچی اور متاثرہ خاتون کو جھاڑیوں سے نکال کر گاڑی تک پہنچایا گیا۔

مزید پڑھیں: زیادتی میں ملوث اصل مجرمان تک جلد پہنچ جائیں گے: وزیرقانون پنجاب

ذرائع کے مطابق 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی پولیس عینی شاہد کا تعین نہیں کرسکی جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خاتون نے اپنی میڈیکل رپورٹ میں نام اور شناختی کارڈ نمبر غلط لکھوایا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مدعی مقدمہ نے کیس کے آغاز سے پہلے ہی اپنا موبائل فون نمبر بندکردیا ہے، مدعی نے نمبر بند کرنے سے قبل میڈیا سے مقدمہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور ایف آئی آر میں اپنی رہائش گاہ کا ایڈریس غلط درج کروایا۔

یہ بھی پڑھیں: زیادتی کیس: جائے وقوعہ پر پہنچنے والے اہلکار نے کیا دیکھا؟ سنسنی خیز انکشاف

اسے بھی پڑھیں: گجرپورہ زیادتی کیس، عینی شاہد کا دل دہلا دینے والا انکشاف

یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں