site
stats
اے آر وائی خصوصی

افطاردسترخوان: شہر کراچی بازی لے گیا

مہنگائی کے اس دور میں بھی رمضان المبارک میں ملک بھر میں افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے وہی شہر قائد اسے معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں بلکہ دیگر شہروں پر سبقت لے جاچکا ہے۔

شہر قائد میں مختلف مساجد، امام بارگاہوں، مدارس، اسپتالوں بس اسٹاپ پر گھر سے باہر رہ جانے والے افراد کے لیے بالکل مفت افطار کا انتظام کیا جاتا ہے۔

W-1

ایک محتاط اندازے کے مطابق 3 کروڑ کی آباد والے اس شہر میں روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 25 لاکھ کے قریب افراد گھر سے باہر روزہ کھولتے ہیں۔

کراچی ملک کا وہ واحد شہر ہے جہاں مختلف علاقوں میں 4000 سے زائد چھوٹے بڑے دستر خوان لگائے جاتے ہیں، کئی مقامات پر یہ دسترخوان عوام اپنی مدد آپ کے تحت لگاتے ہیں تو کہیں فلاحی تنظیموں کی جانب سے لگائے جاتے ہیں۔

W-4

گلشن اقبال، سوک سینٹر، رنچھوڑ لائن، گلستان جوہر، کلفٹن ڈیفنس کے علاقوں میں باقاعدہ طور پر خواتین دسترخوان لگاتی ہیں، جبکہ شہر میں 700 سے زائد امام بارگاہوں اور مدارس میں بالکل مفت افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

W-5

ٹریفک میں پھنس جانے والے یا اپنی سفید پوشی کو برقرار رکھنے والے افراد کے لیے مخیر حضرات کی جانب سے یہ دسترخوان ٹاور، نمائش، گرومندر، لیاقت آباد، عائشہ منزل، سہراب گوٹھ ، عزیز آباد ، فیڈرل بی ایریا، نیو کراچی، نارتھ کراچی نارتھ ناظم آباد کے علاوہ شہر بھر کے بڑے تجارتی مراکز میں لگائے  جاتے ہیں۔

W-2

دوسری جانب شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فلاحی ادارے کی جانب سے افطار دسترخوان کا شاندار سلسلہ جاری ہے جہاں شہر اور ملک کے دیگر حصوں سے آئے تیماردار روزہ افطار کرتے ہیں۔

W-7

نمائش چورنگی پر افطار کرنے والے ایک بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ ’’ مہنگائی کے اس دور میں سحری اور افطار کے لیے ہمارے بس کی بات نہیں مگر ایسے لوگوں کے لیے دعا نکلتی ہے جو روزے داروں کے لیے اہتمام کرتے ہیں‘‘۔

اندرون سندھ سے سول اسپتال آئے ایک خاندان کے سربراہ نے کہا کہ ’’ ہمارا بیٹا داخل ہے ہمارے پاس دوائی کے پیسے نہیں مگر ایسے حالات میں افطار اور سحری کا اہتمام اللہ کی طرف سے تحفہ ہے‘‘۔

لیاقت آباد پر موجود ایک پھل فروش نے بتایا کہ وہ خاص طور پر ایسے لوگوں کے لیے رعایت دیتے ہیں جو لوگوں کو افطار کروانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top