The news is by your side.

Advertisement

بھارت: ہزاروں کسان مودی حکومت کے مظالم سے تنگ، برہنہ احتجاج کی دھمکی

اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے احتجاج میں شرکت کی

نئی دہلی: بھارتی حکومت کے مظالم سے نالاں کسانوں نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں برہنہ احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ جانے کا عندیہ دے دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں اپنے حقوق کے لیے اور حکومتی مظالم کے خلاف جمع ہونے والے ہزاروں کسانوں نے گزشتہ رات رام لیلا میدان میں کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔

مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر اُن کے مطالبات حکومت نے پورے نہیں کیے اور کوئی نمائندہ سننے کے لیے نہیں‌ آیا تو وہ احتجاج جاری رکھیں‌گے اور کسی بھی لمحے برہنہ ہوکر پارلیمنٹ میں داخل ہوجائیں گے۔

کسانوں نے اپنے ہاتھوں میں خودکشی کرنے والے ساتھیوں کے ڈھانچے اٹھا رکھے تھے، انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ’ہم وزیراعظم سے بھیک مانگنے کے لیے نہیں بلکہ اپنا حق مانگنے آئے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار میں پولیس راج، 80 سالہ خاتون پر تشدد، ہڈیاں توڑ دیں

بھارتی حکومت نے کسانوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو پارلیمنٹ کے اطراف کے علاقوں میں تعینات کیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج میں شرکت کی۔

ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے والے مظاہرین نے بھارتی میڈیا سے بھی گزارش کی کہ وہ حکومت سے خوفزدہ نہیں ہوں بلکہ احتجاج کی مکمل کوریج کریں۔

مظاہرین نے نئی دہلی کے کمشنر سوامیتھن کو ایک فہرست پیش کی جس میں کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ’حکومت اُن کے قرضے معاف کرے، فصلوں کی قیمتوں کو بڑھائے اور ہمیں پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے‘۔

یاد رہے کہ چھ ماہ قبل جون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ  مالی سال 2019-2018 کے دوران کسانوں نے حکومتی عدم توجہ اور ناقص پالیسوں سے تنگ آکر خودکشی کی اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: حکومتی عدم توجہ، 2 ماہ میں 69 کسانوں کی خود کشی

اُن کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر تمام ضلعوں میں تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو کسانوں کے مسائل کو  بغور سنے گی جبکہ متاثرہ خاندانوں کی کفالت کے حوالے سے بھی حکومت کوئی پالیسی متعارف کرائے گی۔

بھارتی وزیر کا کہنا تھاکہ 49 کسانوں نے گزشتہ ماہ قرضوں کی ادائیگی سے تنگ آکر خوکشی کی جبکہ 20 کسانوں کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے کمیٹی نے کام شروع کردیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں تقریباَ 26 کروڑ افراد زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں جبکہ گزشتہ سال مہاراشٹرا میں 1 ہزار سے زائد کسانوں نے غربت سے تنگ آکر خودکشی کی تھی۔

بھارتی شہر چنائی میں منعقد ہونے والے انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے خلاف کسان میں میدان آگئے تھے اور  انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت پہلے پانی کے مسئلے کو حل کرے بعد میں کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کرے۔

اسے بھی پڑھیں: بھارت: آئی پی ایل میچز رکوانے کے لیے سیکڑوں افراد کا احتجاج

بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین کی قیادت بالی ووڈ اسٹار رجنی کانت نے کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ پہلے کسانوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے، جب یہ کام پورے ہوجائیں اُس کے بعد کھیلوں کے میدانوں کو آباد کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں