The news is by your side.

Advertisement

اردن کے شاہ عبداللہ اور سوتیلے بھائی میں مصالحت

عمان: اردن کے شاہ عبدﷲ دوم اور ان کے سوتیلے بھائی کے درمیان مصالحت ہوگئی ہے، شاہ اردن کے خلاف بیان دینے پر سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ بن حسین کو نظربند کردیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق شاہی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ حمزہ نے شاہ عبدﷲ اور ملک سے وفاداری سے متعلق دستاویز پر دستخط کردئیے ہیں۔

اردن کی رائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ’ ملک کے مفادات کو ہر معاملے سے بالاتر رہنا چاہیے اور ہم سب کو اردن اور اس کے قومی مفادات کے تحفظ کی کوششوں میں شاہ عبداللہ ثانی کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔

شہزادہ حمزہ نے اس دستاویز پر شہزادہ حسن کے گھر پر دستخط کیے ہیں جنہیں شاہ عبداللہ ثانی نے معاملہ طے کرنے کے لیے مقرر کیا تھا، شہزادہ حمزہ نے تصدیق کی تھی کہ وہ ہاشمی خاندان کے نظام اور شاہ عبداللہ ثانی کے مقرر کردہ طریقہ کار کی پابندی کریں گے۔

اس سے قبل اردن کی رائل کورٹ نے اعلان کیا تھا کہ’ اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کے معاملے کو فیملی کے اندر ہی نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے، شاہ عبداللہ ثانی نے اس معاملے کو اپنے چچا شہزادہ حسن بن طلال کو سونپا تھا۔

دوسری جانب اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی بترا کے مطابق آج پبلک پراسیکیوشن نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’شہزادہ حمزہ کیس کی تفتیش جاری ہے، اس ضمن میں کوئی مواد خواہ وہ تحریری ہو یا مرئی یا سوشل میڈیا پر ہو شائع کرنا منع ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ اس فیصلے کی خلاف ورزی پر میڈیا قوانین کے مطابق کارروائی ہوگی، فیصلے کا نفاذ تاحکم ثانی جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اُردن نے بڑی سازش ناکام بنا دی

واضح رہے کہ اردنی قوانین کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کو کسی بھی زیر تفتیش کیس کے متعلق میڈیا میں مواد شائع کرنے پر پابندی لگانے کا اختیار ہے۔

چار اپریل کو اردن کے نائب وزیر اعظم نے ملک کو درپیش ایک نازک صورت حال میں اہم بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ شاہ اردن عبداللہ ثانی کے سوتیلے بھائی شہزادہ حمزہ غیر ملکیوں سے رابطے میں تھے، جو ملک میں عدم استحکام لانا چاہتے تھے۔

نائب وزیر اعظم ایمن الصفدی نے پریس کانفرنس میں بتایا اردن کی انٹیلی جنس نے ’زیرو آور‘ کے نام سے کچھ کمیونیکیشنز پکڑی تھیں، اور سازش کرنے والے منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر کارروائی کی طرف جانے والے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں