The news is by your side.

Advertisement

خواجہ سعد رفیق کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

لاہور: صوبہ پنجاب کی لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی 24 اکتوبر تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے نیب سے جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ خواجہ سعد اور سلمان رفیق کے وکلا نے کہا کہ نیب نے 16 اکتوبر کو پیراگون سٹی کی تحقیقات کے لیے طلب کر رکھا ہے خدشہ ہے کہ نیب انہیں گرفتار کر لے گی۔

خواجہ سعد رفیق کے وکیل نے دلائل دیے کہ ان کا پیراگون سٹی سے کوئی تعلق ہے نہ ہی وہ اس کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنی زمین دے کر پیراگون سٹی سے دس پلاٹ حاصل کیے اور اس حوالے سے تمام تفصیلات گوشواروں میں ظاہر کیں مگر اس کے باوجود نیب انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے۔

وکیل نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ بھی نیب نے یہی سلوک کیا اور انہیں صاف پانی کیس میں بلا کر آشیانہ کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دہے کہ یہاں شہباز شریف کا کیس زیر سماعت نہیں اس لیے اس کے متعلق دلائل نہ دیے جائیں۔

عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی 24 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 5، 5 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب بھی طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ خواجہ سعد رفیق نے اسی نوعیت کی ایک اور درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی دائر کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔

یاد رہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے آشیانہ اسکیم لانچ کی گئی تھی۔

اس سے قبل نیب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو آشیانہ اسکینڈل میں گرفتار کر چکی ہے۔ وہ صاف پانی کیس میں نیب میں پیش ہوئے تھے اور نیب لاہور نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں انہیں گرفتار کیا۔

بعد ازاں خواجہ سعد رفیق نے ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے درخواست دائر کرتے ہوئے کہا آئندہ نیب میں پیشی پر گرفتاری کے وارنٹ جاری نہ کیے جائیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ نیب جواب داخل کروانے کے لیے دو ہفتے کا وقت دے۔ درخواست میں نیب اور ڈی جی نیب لاہور کو فریق بنایا گیا تھا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کو 16 اکتوبر کو طلب کر رکھا ہے اور ہدایت کی ہے کہ تمام دستاویزات اور منی ٹریل لے کر آئیں۔

ذرائع کے مطابق اگر 16 اکتوبر کو سعد رفیق مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرسکے تو ان کی بھی گرفتاری کا امکان ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں