The news is by your side.

Advertisement

لندن آتشزدگی: سحری کیلئے اٹھے مسلمان لوگوں کی جانیں بچانے والے ہیرو

لندن : لندن کے گرین فیل ٹاورمیں آتشزدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مدد میں صحری کیلئے اٹھے مسلمان پیش پیش رہے،برطانوی میڈیا نے مسلمانوں کی ہمدردی اورمدد کے جذبے کوقابل تعریف قراردیا۔

لندن میں مسلمانوں کی ہمدردی اور بہادری کے چرچے، مسلم کیمونٹی کے قابل تقلید کردار کو برطانوی میڈیا نے خراج تحسین پیش کیا اور مسلم کمیونٹی برطانوی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گرین فیل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد مسلمانوں نے اپنے پڑوسیوں کی جان بچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق لندن گرینفل ٹاور میں آتشزدگی کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے سب سے پہلے افراد مسلمان تھے، انہوں نے اپنے سوئے ہوئے پڑوسیوں کے دروازوں کو کھٹکھٹاتے ہوئے عمارت میں لگی آگ کا بتا کر انہیں چوکنا کیا اور عمارت سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کی۔

سحری کے لئے بیدارہونے والے مسلمانوں نے آگ کی لپیٹ میں آئی عمارت میں پھنسے لوگوں کو باہرنکالا، متاثرہ افراد کا کہنا تھا مسلمانوں نے نہ صرف جانیں بچائیں بلکہ کھانا اورکپڑے بھی فراہم کئے۔

گرینفل ٹاور میں آگ رات کو تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان لگی جب اکثر لوگ سو چکے ہوتے ہیں تاہم چونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے لہٰذا مسلمان خاندان سحری کی تیاریوں کی وجہ سے جاگ رہے تھے اور انہوں عمارت میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانوی میڈیا نے مسلم کیمونٹی کےکردار کوسراہتے ہوئے انہیں ہیرو قرار دیا۔

مقامی خواتین صفیہ اور رشیدہ نےبتایا کہ اس علاقہ میں مختلف اقوام، ممالک اور مذاہب کے لوگ مقیم ہیں، جو ایک دوسرے سے امن و محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔

نادیہ یوسف نے کہا کہ وہ سحر کی تیاری میں مصروف تھیں کہ آگ کا پتہ چلا اور انہوں نے کئی مرد و خواتین اور بچوں کو بچانے میں ساتھیوں کی مدد کی۔


مزید پڑھیں : لندن : رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی


یاد رہے گذشتہ روز مغربی لندن میں چوبیس منزلہ رہائشی عمارت میں اچانک شعلے بھڑک اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ پھیل گئی ، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

مذکورہ عمارت 130 رہائشی فلیٹس پر مشتمل ہے جس میں ہزاروں افراد رہائش پذیر تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں