site
stats
اے آر وائی خصوصی

کیا ایم کیوایم 24 سال بعد اپنی سیاسی تاریخ دہرارہی ہے؟

کراچی : آج سے چوبیس سال پہلے انیس سو بانوے میں اخبارات میں چھپنے والی سرخیاں آج پھر الیکٹرانک میڈیا میں نمایاں ہیں۔ متحدہ قومی مووومنٹ کے قائد نے پارٹی سے علیحدگی اورسیاست سے دستبرداری کا جتنی مرتبہ اعلان کیا شاید ہی دنیا میں کسی اور سیاسی رہنما نے ایسا کیا ہو۔

MQM POST 4

کیا متحدہ قومی موومنٹ ایک بار پھر اپنی سیاسی تاریخ دہرارہی ہے۔ جون بانوے میں جب آفاق احمدکی ایم کیو ایم حقیقی منظر عام پر آئی تو شہر قائد کی دیواریں ” جو قائد کا غدار ہے وہ مو ت کا حق دار ہے”جیسے نعروں سے رنگین ہوگئیں ۔

MQM POST 2

بعد ازاں متحدہ کے قائد الطاف حسین نے قیادت چھو ڑنے کااعلان کردیا، جس کے بعد عظیم احمد طارق ایم کیو ایم کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آئے، انہوں نے بھی کم وبیش وہی الفاظ کہے جو آج ڈاکٹر فاروق ستار دہرا رہے ہیں۔

عظیم احمد طارق نے کہا تھا کہ ایم کیوایم الطاف حسین کی ذات نہیں۔ انیس سو بانوے میں ہی حقیقی اورعظیم طارق گروپ کے اتحاد کی خبروں کی بازگشت نے زور پکڑا تو یکم مئی انیس سو ترانوے کو عظیم احمد طارق کا قتل ہوگیا۔

MQM POST 3

ابھی عظیم احمد طارق کے خون کی سرخی کم بھی نہ ہو ئی تھی کہ ایم کیوایم کا مرکز نائن زیرو فعال اورقیادت دوبارہ الطاف حسین نے سنبھال لی، آج پھر کم وبیش ویسے ہی حالات ہیں۔

ایم کیو ایم سے منحرف ہونے والے سابق سٹی ناظم اور سابق سینیٹر مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی کی صورت میں سیاست میں چند ما ہ پہلے ہی انٹری دی ہے۔

MQM POST 5

ایم کیوایم لندن اور پاکستان میں تقسیم ہوگئی ہے، ایم کیو ایم پاکستان کی کمان ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ہے، جبکہ الطاف حسین کی دماغی حالت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے ماضی کی طرح قائد تحریک کو ایک بار پھر پارٹی سے الگ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

MQM POST 1

انیس سو بانوے کی طرح آج بھی ایم کیوایم لندن کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے، لیکن شہر میں بدلہ گروپ کے نام سے وال چاکنگ نے ڈاکٹر فاروق ستار سے متعلق خدشات بڑھا دیئے ہیں۔

اب کی بار واضح فرق یہ ہے کہ پاکستان مخالف نعرے لگانے پر حکومت متحدہ قائد کے خلاف کارروائی کیلئے برطانوی حکام کو خط لکھ چکی ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top