The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے معافی مانگ لی

ولنگٹن: نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے سانحہ کرائسٹ چرچ کی تحقیقاتی رپورٹ میں خامیاں‌ سامنے آنے کے بعد متاثرین اور قوم سے معافی مانگ لی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جیسنڈا آرڈرن نے رائل کمیشن آف انکوائری کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ میں نقائص کی نشاندہی کے بعد مسلمانوں اور نیوزی لینڈ کے عوام سے معافی مانگی۔

تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ ’تحقیقاتی رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی اور بتایا گیا کہ حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھا، جس پر میں بطور وزیر اعظم خاص طور پر متاثرین اور پوری قوم سے معافی مانگتی ہوں‘۔

رائل کمیشن آف انکوائری کی جانب سے جاری ہونے والی 800 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ کرائسٹ چرچ سے قبل سیکیورٹی اداروں کی تمام تر توجہ دہشت گردی کو روکنے پر مرکوز تھی مگر اس دوران سفید فام بالادستی کی تحاریک کے لیے کام کرنے والوں کو چھوٹ دی گئی۔ حملہ آور نے  یوٹیوب کی مدد سے کئی چیزیں سیکھیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ کرائسٹ چرچ، مرکزی ملزم 51 افراد کے قتل میں مجرم قرار

رپورٹ کے مطابق جن دنوں سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے تدارک کے لیے اقدامات کررہے تھے اُن ہی ایام میں ایک شخص نے سفید فام بالادستی کا نعرہ لگاتے ہوئے 51 نمازیوں کو شہید کیا۔

تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ کو اسلحہ لائسنس دیتے وقت سیکیورٹی نکات کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا اور اُسے جدید ہتھیار رکھنے کی اجازت دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی نکات کو صرفِ نظر کرنے پر پولیس کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس مارچ کی 15 تاریخ کو نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں 29 سالہ ٹرینٹ نامی آسٹریلوی شہری نے مساجد میں فائرنگ کر کے 51 مسلمانوں کو شہید کیا اور حملے کو فیس بک پر نشر بھی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کرائسٹ چرچ کو سال مکمل، جیسنڈا آرڈرن نمازِ جمعہ کے اجتماع میں شریک

یاد رہے کہ حملہ آور کو اگست میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جو نیوزی لینڈ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی سزا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں