The news is by your side.

Advertisement

صوبائی حکومت کا وفاق پر حملہ کرنا ٹھیک نہیں، نثار

اسلام آباد: وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نےسابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کو غلط خبر کی تردید کرکے اسے اشاعت سے نہ روکنے کا ذمہ دار ٹھہرا کرسول ملٹری قیادت میں تلخ کلامی کے واقعات کی تردید کردی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نےقومی سلامتی سے متعلق خبر پر اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈان کی خبر کی مکمل تردید کردی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزارتِ داخلہ نے ہرپہلو پر تحقیقات کی ہیں جس میں سامنے آیا ہے کہ سرل المیڈا نامی صحافی نے خبر کی تصدیق کے لیے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید سے رابطہ کیا ۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پرویز رشید نے غلطی کی کہ انہوں نے المیڈا کو خبر کی تردید کرتے ہوئے نہ چھاپنے کی ہدایت نہیں کیِ اگر صحافی خبر کی تردید کے باوجود نہیں مانتا تو انہیں ڈان کی انتظامیہ سے رابطہ کر نا چاہیے تھا جو کہ انہوں نے نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ پولیس ٹریننگ کے موقع پر کوئٹہ میں آرمی چیف سے ملاقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں‘ انہوں نے اس ملاقات میں جھوٹی خبر کی تحقیقات کی بابت استسفار کیا جس پر انہیں جواب دیا کہ پہلے تحقیقات وزیراعظم کے ساتھ شیئر کی جائیں گی اور اسی طرح پہلے وزیراعظم اور پھر آرمی چیف کو بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جس نے جھوٹی خبر ڈان کو لیک کی‘ اسے سزا ملنا ضروری ہے جس کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ جھوٹی خبر سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص متاثر ہوا۔

تحریک انصاف کا دھرنا

تحریک انصاف کے دھرنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں نظامِ زندگی کو جاری و ساری رکھنا وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اگر اس کا دارالحکومت اس طرح سے بند کردیا جائے اور مطالبات منظور ہونے تک بند رکھنے کی دھمکی کی دی جائے، ایسے واقعات سے عالمی سطح پر ملک کا تشخص خراب ہورہا ہے۔

انہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مخاطب کرکےکہا کہ ایسی روایات کی داغ بیل ڈالنا درست نہیں ہے ‘ حکومت آنی جانی چیز ہے اگر ایک صوبائی حکومت ملک کے وفاق پر حملہ آور ہوگی تو اس سےعالمی دنیا میں پاکستان کا تشخص خراب ہوگا۔

انہوں نے خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو محتاط بیا ن دینے چاہیے‘ انہوں نے کنٹینرز سے راستے کی بندش کو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کا تنازعہ بنانے کی کوشش کی حالانکہ کنٹینر کے پی کے سے آنے والے مسلح جھتے کو روکنے کے لیے لگائے گئے ‘ تحریک انصاف کے لوگوں کی گاڑیوں سے کثیر تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔

بعد ازاں چوہدری نثار ایک صحافی کے پوچھے گئے سوال کو ٹال کر اچانک پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،صحافی نے سوال اُٹھایا تھا کہ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ مذکورہ خبر کو لیک کرنے میں محترمہ مریم نواز شریف کا کردار بھی ہے کیا اس حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر زیر بحث سوال اور جواب اتنےضروری نہیں ہوتے ہیں کہ اُن کا جواب دیا جائے،اس کے بعد وفاقی وزیر پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں