The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی قتل، بیٹے نے دیت کی رقم لینے کی تردید کردی، انصاف کے لیے پرامید

واشنگٹن: سعودی صحافی جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے امریکی اخبار میں دیت کی رقم لینے کے حوالے سے چلنے والی خبروں کو جھوٹا قرار دے دیا۔

جمال خاشقجی کے صاحبزادے صلاح خاشقجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر امریکی اخبار کے دعوے کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سعودی حکام سے دیت کے عوض کوئی رقم نہیں لی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بات ہوئی’۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے خاندان نے کسی تیسرے فریق کو  بھی درمیان میں نہیں رکھا جو ہماری نمائندگی کرسکے۔

جمال خاشقجی کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ ’سعودی فرمانروا اور ولی عہد نے انسانیت کے ناطے اہل خانہ سے تعاون کی پیش کش کی تھی تاہم ہم نے اُن کا شکریہ ادا کیا‘۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جو لوگ والد کے قتل میں ملوث تھے انہیں سعودی حکومت سخت سزا دے کر ہمیں انصاف فراہم کرے گی، اگر کیس سے متعلق کوئی ثبوت سامنے آتا ہے تو ہم اس کو کھلے دل سے تسلیم کریں گے۔

مزید پڑھیں: خاشقجی کے بچوں کو خون بہا میں گھر، لاکھوں ڈالر دئیے گئے، امریکی اخبار کا دعویٰ

اُن کا کہنا تھا کہ ’انصاف کی فراہمی ایسا اقدام ہے جس کے ذریعے عزت اور خدا کی قربت حاصل کی جاسکتی ہے، ہمیں امید ہے کہ جمال خاشقجی کے معاملے میں تمام تقاضے اور شواہد کو دیکھتے ہوئے منصفانہ فیصلہ دیا جائے گا‘۔ قبل ازیں امریکی اخبار نے تین اپریل کو شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی کے چار بچوں نے والد کی دیت کے عوض لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر وصول کرلیے جبکہ انہیں سعودی حکام نے ماہانہ لاکھوں ڈالر فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکام اور دیگر افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمال خاشقجی کے دو بیٹوں اور دوبیٹیوں کو آئندہ چند ماہ میں سعودی صحافی کے قاتلوں کا ٹرائل مکمل ہونے پر خون بہا سے متعلق مذاکرات کے تحت مزید لاکھوں ڈالر بھی دیئے جاسکتے ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت، جمال خاشقجی کے اہلخانہ سے طویل المدتی مفاہمت کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہے تاکہ انہیں قتل پر تنقید سے باز رہنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: سعودی صحافی کے قتل کیس کی سعودی عرب میں پہلی سماعت

سابق عہدیدار کے مطابق گزشتہ برس کے آخر میں شاہ سلمان کی جانب سے ان گھروں اور 10 ہزار ڈالر یا اس سے زائد ماہانہ آمدن کی منظوری دی گئی تھی اور اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ ایک بڑی ناانصافی ہوچکی ہے اور یہ غلط کو صحیح کرنے کی کوشش ہے۔ صلاح خاشقجی نے اپنے آج کے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ ہمارے درمیان کوئی تیسرا فریق نہیں جو سعودی حکام سے بات چیت کرے اور معاملات طے کرے، میڈیا کو ذرائع سے ملنے والی خبر بالکل غلط ہے کیونکہ اس حوالے سے جو بھی اقدامات ہوں گے ہم اعلان کر کے لوگوں کو آگاہ کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں