The news is by your side.

Advertisement

جوہری ہتھیاروں پر پابندی: اقوام متحدہ نے کیا اہم سنگ میل عبور

نیویارک: اقوامِ متحدہ نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق سمجھوتے کو نافذ العمل کرنے کے لئے مطلوبہ ممالک کی توثیق حاصل کرلی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اہم عہدیدار نے بتایا کہ ہنڈورس نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے سمجھوتے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کو مذکورہ سمجھوتہ نافذالعمل کرنے کے لئے مطلوبہ ممالک کی توثیق حاصل ہوگئی ہے، جس کے بعد یہ سمجھوتہ 90 روز بعد 22 جنوری 2021ء کو نافذ العمل ہو جائے گا۔

تاہم امریکہ، روس اور چین سمیت پانچ بڑی ایٹمی طاقتوں اور امریکہ کی جوہری چھتری تلے آنے والے جاپان جیسے ممالک نے سمجھوتے میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔UN treaty to ban nuclear weapons to come into force after 50th signatory |  Euronews

دوسری جانب آسٹریا سمیت غیر جوہری ممالک اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی بین الاقوامی مہم، آئی کین جیسی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں نے اُمید کا اظہار کیا ہے کہ یہ سمجھوتہ جوہری ترکِ اسلحہ کی تحریک کو مزید تقویت بخشے گا۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے سمجھوتے کی جولائی 2017ء میں 122 ممالک اور علاقہ جات کی حمایت کے ساتھ منظوری دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کا مسلح تنازعات میں اطلاق ہوتا ہے اور یہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری، ان کے رکھنے اور ایسے ہتھیاروں کے استعمال پر قدغن عائد کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا کارکن منتخب ہونا پاکستان کیلیے بڑا اعزاز

اِس سمجھوتے کے نفاذ کے بعد پہلی بار بین الاقوامی قانون کے تحت جوہری ہتھیاروں کو غیر قانونی سمجھا جائے گا، لیکن جوہری ترکِ اسلحہ کے ہدف کے حصول کیلئے اس کا مؤثر ہونا غیر واضح ہے کیونکہ بڑی جوہری طاقتیں اس سمجھوتے کے خلاف ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں