The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان میں "حکومت کو جام” کرکے رکھ دیں گے

کوئٹہ: اپوزیشن ارکان نے حکومتی وفد کے ساتھ مزید بات چیت سے انکار کردیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

تفصیلات کے مطابق کم وبیش ایک ہفتے سے بجلی گھر تھانے میں موجود اپوزیشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ا پوزیشن نےحکومتی وفد سےمزیدنہ ملنےکا اعلان کیا ہے حکومتی وفد اب مزید ہمارے پاس نہ آئے۔

اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سات دن گزر گئے ہمارے خلاف درج ایف آئی آر پرہمیں گرفتار نہیں کیا جارہا، طےہوا تھا کہ اپوزیشن کیخلاف ایف آئی آر واپس لی جائےگی تاحال ایف آئی آر واپس نہیں لی گئی جو اسمبلی کی توہین ہے۔

ملک سکندرایڈووکیٹ نے دھمکی دی کہ ہمارے مطالبات پر صوبائی حکومت توجہ نہیں دے رہی، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال ہوش کے ناخن لیں ورنہ ان کی حکومت کو صوبے بھر میں "جام” کرکے رکھ دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ بجٹ پر مشاورت کی بجائے صوبائی اراکین اسمبلی پر حملہ کیا گیا، اپوزیشن اراکین پربکتربند گاڑی چلائی گئیں، وزیر اعلیٰ قبائلی روایات کے تحت اراکین کے پاس جاکر معافی مانگیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان پر جوتا پھینکنے کی کوشش ناکام

واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل متحدہ حزب اختلاف بجٹ میں نظر انداز کیے جانے کے خلاف گذشتہ ایک ہفتے سے اسمبلی کی عمارت کے باہر دھرنا دے کر بیٹھی ہوئی ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ گذشتہ تین سالوں سے ان کے حلقوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز نہیں دیے جا رہے، فنڈز صرف حکومتی ارکان کے حلقوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں