site
stats
اہم ترین

آئندہ ترقیاتی بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد مقرر

 اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے 2 ہزار 1 سو 13 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی۔ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ برائے مالی سال 18-2017 کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر آئندہ بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ 1 ہزار 1 ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 1 ہزار 1 سو 12 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ رواں مالی سال مجموعی ترقیاتی بجٹ کا حجم 16 سو 75 ارب روپے تھا۔

وفاقی بجٹ کے لیے 1 سو 68 ارب روپے غیر ملکی ذرائع سے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا ہے۔ رواں مالی سال ملکی معاشی شرح نمو 5.3 رہی۔

ذرائع کے مطابق توانائی اور سڑکوں کے لیے 3 سو 84 ارب روپے، وفاقی وزارتوں کے لیے 2 سو 88 ارب روپے، ٹی ڈی پیز کے لیے 90 ارب روپے، خصوصی علاقوں کے لیے 65 ارب، ایس ڈی جیز کے لیے 45 ارب اور خصوصی وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 50 ارب رکھے گئے ہیں۔

سی پیک کے منصوبوں کے لیے 27 ارب، وزیر اعظم اسکیموں کے لیے 20 ارب روپے، ایرا کے لیے 7 ارب اور گیس انفراسٹرکچر فنڈ کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے پانچ ارب روپے کا خصوصی پروگرام بھی منظور کیا گیا۔

تسلی بخش شرح نمو

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقتصادی ترقی کی شرح 5.3 فیصد رہی جو کہ تسلی بخش ہے۔ پاکستان کے اقتصادی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں جس کا اعتراف عالمی اقتصادی ادارے کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے جس کے لیے وفاق اور صوبے مل کر ملک کی ترقی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تمام تر توجہ توانائی کے منصوبوں پر ہے۔ ملکی ترقی ہم سب کا مشترکہ فرض ہے، اس فرض کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیئے۔

اجلاس میں تمام صوبوں کے وزارئے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور وفاقی اور صوبائی وزرا نے بھی شرکت کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top