The news is by your side.

Advertisement

ننھی زینب کا قتل کس چیز سے کیا گیا؟ پولیس نے قاتل کو گرفتار اور آلہ قتل برآمد کر لیا

چارسدہ: خیبر پختون خوا میں ایک درندے کی بھینٹ چڑھنے والی ننھی زینب کے زیادتی و قتل کیس میں ملوث ملزم گرفتار ہو گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس ذرایع نے کہا ہے کہ چارسدہ کی ننھی زینب کے قاتل کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزم کی عمر 45 سے 50 سال کے درمیان ہے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق بھی ڈھائی سالہ زینب کے گاؤں سے ہے، ملزم نے پولیس کے سامنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا، اعتراف کے بعد سخت سیکورٹی میں ملزم کو جائے وقوعہ کی نشان دہی کے لیے لے جایاگیا۔

ملزم کی نشان دہی پر پولیس نے آلہ قتل درانتی بھی برآمدکر لی، نشان دہی پر کھیتوں سے زینب کے جوتے بھی برآمد ہو گئے، معلوم ہوا کہ سفاک ملزم نے زینب کوگھر کے سامنے سے اٹھایا تھا، اور کھیت میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا۔

زینب کے والد اختر منیر نے ملزم کو چوک پر لٹکانے کا مطالبہ کر دیا ہے، انھوں نے کہا قصور کی زینب کو انصاف ملا اس کے والدین کے سامنے ملزم کو لٹکایاگیا، میری بیٹی زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دی جائے۔

زینب قتل کیس، وزیراعلیٰ کے پی‌ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم

واضح رہے کہ چارسدہ پولیس نے اس کیس میں 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا، جن سے تفتیش جاری تھی، زینب کے قاتل نے اس دوران اپنے جرم کا اقرار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی زینب کی ڈی این اے رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے، تین افراد زیادہ مشتبہ تھے ان کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا لیکن یہ رپورٹ بھی ابھی موصول نہیں ہوئی ہے۔

زینب زیادتی و قتل کیس میں تاحال 300 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جا چکا ہے، 15 مشتبہ افراد کے سوا دیگر زیر حراست افراد کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا، آج پولیس کا کہنا تھا کہ میڈیکل ٹیم آج علا قے میں مزید 100 مشتبہ افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر کو چارسدہ میں ڈھائی سال کی بچی کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا، میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کو 18 گھنٹے قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور پھر اُس کا پیٹ اور سینہ چاک کر کے قتل کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں