site
stats
اہم ترین

خواجہ اظہار کیس: مولوی فضل اللہ کے کزن سمیت 4 دہشت گرد ہلاک، اہل کار شہید، مرکزی ملزم فرار

کراچی: خواجہ اظہار فائرنگ کیس میں چھاپوں کے دوران پولیس مقابلے میں ملا فضل اللہ کے کزن کمانڈر خورشید سمیت تحریک طالبان سوات کے چار دہشت گرد ہلاک ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا، فائرنگ کیس کا مرکزی ملزم سروش صدیقی بھاگ نکلا۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر ملزم نے فائرنگ کر کے ایک اہلکار کو شہید اور ایک زخمی کردیا۔

ذرائع کے مطابق سہراب گوٹھ کے علاقے کنیز فاطمہ سوسائٹی کے ایک گھر میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپا مار کارروائی کی گئی جس کے دوران دہشت گرد کی جانب سے پولیس پارٹی پر فائرنگ ہوئی نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جب کہ ایک زخمی ہو گیا جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دہشت گرد گھر کے عقب سے فرار ہو گیا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چھاپہ مار کاروائی میں پولیس کو حساس ادارے کی معاونت بھی حاصل رہی، علاقے کا محاصرہ کرکے فرار ہونے والے دہشت گرد کی تلاش کے لیے آپریشن کیا گیا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے میڈیا کو بتایا کہ فرار دہشت گرد کی شناخت عبدالکریم سروش صدیقی کے نام سے ہوئی ہے جو دہشت گرد تنظیم انصارالشریعہ کا مرکزی کمانڈر ہے اور خواجہ اظہار پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے،ملزم سروش صدیقی خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کرنے کے دوران مارے گئے دہشت گرد حسان کا ساتھی اور خطرناک دہشت گرد بھی ہے۔

ملزم عبدالکریم سروش صدیقی کے گھر سے لیپ ٹاپ، موبائل فونز سمییت اہم شوہد قبضے میں کرلیے گئے ہیں جس سے تحقیقات میں مدد ملنے کا امکان ہے جب کہ سروش صدیقی کے والد سمیت خاندان کے 6 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ساتھ ہی سروش کے گھر سے قریبی اپارٹمنٹ سے بھی تین افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن قاتلانہ حملے میں بچ گئے، گارڈ جاں بحق

ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گرد سروش صدیقی کے والد سجاد صدیقی کی نشاندہی پر ڈیفنس کے علاقے خیابان اتحاد سے دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ کے ترجمان کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ دوسری جانب اس وقت کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کر کارروائیاں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ عید الاضحیٰ کی نماز پڑھ کر گھر جاتے ہوئے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تاہم فائرنگ کی زد میں آکر سیکیورٹی گارڈ اور 10 سالہ راہ گیر بچہ ارسل کامران جاں بحق اور اس کے والد کامران شدید زخمی ہو گئے تھے جب کہ فائرنگ کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

کوئٹہ ٹاؤن کا محاصرہ، پولیس فائرنگ سے 4 دہشت گرد ہلاک

علی الصباح حراست میں لیے گئے ملزمان سے حاصل معلومات کی روشنی میں  پولیس نے فرار ہونے والے ملزم سروش صدیقی کی گرفتاری کے لیے سہراب گوٹھ کے نزدیک واقع کوئٹہ ٹاؤن پرچھاپہ مارا جہاں پولیس کا دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا اور نتیجے میں کالعدم دہشت گرد تنظیم کے 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

یہ علاقہ سچل تھانے کی حدود میں واقع ہے اور پولیس نے کالعدم تنظیم انصار الشرعیہ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مار کر علاقے کا محاصرہ کیا تھا۔

ایس ایس پی راؤ انوار نے میڈیا کوبتایا کہ چھاپہ پہلے سے گرفتار ملزمان کی اطلاع پرمارا گیا جہاں دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور خواجہ اظہار پر حملے میں یہ بھی تنظیم ملوث ہے اور اس جماعت انصار الشریعہ نے قاتلانہ حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

راؤ انوار نے کہا ہے کہ مقابلے میں چار ملزمان مارے گئے جب کہ مزید ملزمان کو پکڑنے کے لیے مزید نفری بھی طلب کی، علاقے کا محاصرہ کرکے گھر گھر کی تلاشی بھی لی گئی۔

ہلاک ملزمان کی شناخت، مولوی فضل اللہ کا کزن کمانڈر خورشید ہلاک

پولیس نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے چاروں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، ان ملزمان کا تعلق تحریک طالبان سوات سے ہے، مارا گیا ایک مولوی فضل اللہ کا کزن طالبان کمانڈر خورشید ہے، یہ افغانستان فرار ہوگیا تھا اور سیکیورٹی اداروں کو مطلوب ہے۔

کمانڈر خورشید پاک فوج اور ملالہ یوسف زئی پر حملے میں ملوث تھا

راؤ انوار کے مطابق یہ چاروں یہ چاروں بم بنانے کے ماہر تھے، ملزمان پاک فوج پر حملوں میں ملوث تھے جب کہ ہلاک دہشت گرد خورشید ملالہ یوسف زئی پر حملے میں بھی ملوث تھا۔

راؤ انوار نے مزید بتایا کہ یہ ملزمان قائد آباد پولیس پر حملوں میں بھی ملوث تھے، ہلاک ملزمان میں سروش شامل نہیں، وہ اسی طرف آیا تھا تاہم وہ یہاں بھی نہ ملا اور یہ مقابلہ ہوا، سیکیورٹی ادارے اس کی تلاش میں مزید جگہ بھی چھاپے مار رہے ہیں۔

خواجہ اظہار پر حملے کا ملزم جامعہ کراچی اپلائیڈ فزکس کا طالب علم نکلا

راؤ انوار نے بتایا کہ ملزم سجاد جامعہ کراچی میں اپلائیڈ فزکس ڈپارٹمنٹ کا طالب علم تھا اور ایک پولیس افسر کا پڑوسی بھی تھا، جامعہ کراچی میں دہشت گرد طلبا پر مشتمل نیٹ ورک کا سراغ لگالیا ہے جلد کارروائی کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top