ڈاکٹرعارف علوی - طلبہ سیاست سے ایوانِ صدرتک -
The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹرعارف علوی – طلبہ سیاست سے ایوانِ صدرتک

نو منتخب صدر عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر ہیں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ رفیق ڈاکٹرعارف علوی آئندہ پانچ سال کے لیے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے ہیں، ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج ملک کی قومی اسمبلی ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ملک کےآئندہ صدر کے لیے انتخابات کا انعقاد ہوا، ڈاکٹر عارف علوی کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے چوہدری اعتزازاحسن اورمتحدہ اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمن میدان میں تھے۔

ڈاکٹرعارف علوی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مجموعی طورپر 212 ووٹ حاصل کیے،  پنجاب سے 186، سندھ سے 56، بلوچستان سے 45 اور خیبرپختونخواہ سے 78ووٹ حاصل کیے ، مجموعی طور پر ڈاکٹرعارف علوی نے ووٹ حاصل کیے۔

ڈاکٹرعارف علوی – تعلیم سے صدارت تک


ایک عرصے تک پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل رہنے والے عارف علوی کا شمار پاکستان کے ممتاز ڈینٹسٹ میں ہوتا ہے۔انھوں نے ”پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن“ کے پلیٹ فورم سے فعال کردارادا کیا۔ اِس کے صدر بھی رہے۔ ’ورلڈ ڈینٹل فیڈریشن‘ کے منتخب کونسلر بھی رہے۔ وہ اِس منصب پر فائز ہونے والے پہلے پاکستانی تھے۔

تعلیم

وہ اپنے زمانے کے معروف ڈینٹسٹ اور سیاست داں، ڈاکٹر الٰہی علوی کے بیٹے ہیں، جو تقسیم سے قبل یوپی کی سطح پر مسلم لیگ کے صدر تھے۔بٹوارے کے بعدیہ خاندان کراچی آگیا۔ یہیں 29 اگست 1949 کو دو بہنوں، چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے عارف علوی کی پیدایش ہوئی۔

کراچی سے انٹر کرنے کے بعد ڈینٹل کالج لاہور کا رخ کیا۔ سنہ 1970ءمیں بی ڈی ایس کا مرحلہ طے کیا۔ 75ءمیں یونیورسٹی آف مشی گن، امریکا سے Prosthodontics میں ماسٹرز کیا۔ 1982ءمیں سان فرانسسکو سے یونیورسٹی آف پیسفک سے Orthodontics میں ماسٹرز کا مرحلہ طے کیا۔ واپس آنے کے بعد وہ والد کے کلینک میں پریکٹس کرتے رہے۔ بعد ازاں ’علوی ڈینٹل ہاسپٹل‘ کی بنیاد ڈالی۔

سیاست کی ابتدا

سیاست کی جانب ابتدا ہی سے رجحان تھا، مولانا مودودی اور بھٹو صاحب سے متاثر تھے۔ اسٹوڈنٹ سیاست کرتے رہے۔ ایوب خان کے خلاف چلنے والی طلبا تحریک میں بھی پیش پیش رہے۔ 7 جنوری 1977ءکو جب بھٹو صاحب نے الیکشن کا اعلان کیا، تووہ ایک بار پھر متحرک ہوگئے۔1979ءمیں جماعت اسلامی نے اُنھیں اپنا صوبائی امیدوار نام زد کیا تھا، لیکن الیکشن منعقد نہیں ہوئے۔

دھیرے دھیرے جماعت سے دور ہوگئے۔1996ءمیں پی ٹی آئی کے قیام کے وقت زیادہ پرامید نہیں تھے، مگر عمران خان سے ملاقاتوں کے بعد اس کا حصہ بنے اور1997ءمیں تحریک انصاف، سندھ کے صدر منتخب ہوگئے۔

سنہ 1997ءمیں وہ ڈیفنس سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کھڑے ہوئے، نومولود جماعت کو ناکامی ہوئی۔2001 میں وہ تحریک انصاف کے نائب صدر ہوگئے۔ 2007 میں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ پارٹی کا آئین تشکیل دینے والی دس رکنی کمیٹی میں بھی شامل رہے۔

سنہ 2013 کے انتخابات میں این اے 250سے، خاصے تنازعات کے بعد انھوں نے کامیابی حاصل کی، 2018 کے الیکشن میں کراچی کے حلقے این اے 247 سے انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں