The news is by your side.

Advertisement

پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا فیصلہ چیلنج کردیا

لاہور: پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کا فیصلہ چیلنج کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے عدالتی فیصلے کے خلاف ابتدائی نظر ثانی درخواست دائر کردی ہے جبکہ فیصلےکےخلاف جامع اپیل کچھ روز میں دائر کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب بلدیاتی اداروں سے متعلق نیا قانون لارہا ہے، نئےقانون میں لوکل نمائندوں کو زیادہ بااختیاربنایاجائےگا۔

دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ دو ہزار سولہ کےبلدیاتی اداروں کوبحال کرنےسےمسائل ہونگے لہذا سپریم کورٹ بلدیاتی اداروں کی بحالی کے25مارچ فیصلےپرنظر ثانی کرے۔

پنجاب حکومت کےخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

دوسری جانب سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت کے خلاف توہین عدالت کی دوسری درخواست دائر کی گئی ہے، توہین عدالت کی درخواست لاہور کے سابق ن لیگی میئر نےدائر کی، درخواست میں چیف سیکرٹری، سیکرٹری بلدیات کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے بلدیاتی اداروں سےمتعلق واضح حکم دیا، پنجاب حکومت عدالتی احکامات کی عدولی کررہی ہے، عدالت فیصلے پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ رواں سال پچیس مارچ کو سپریم کورٹ نے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتیں بحال کی جائیں، عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتحب کیا، ایک نوٹیفیکشن کا سہارا لے کر انہیں گھر بھجوا نے کا اجازت نہیں دے سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل140کے تحت قانون بنا سکتے ہیں مگر ادارے کو ختم نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا ہے، حکومت کی ایک حیثیت ہوتی ہے چاہے وہ وفاقی صوبائی یابلدیاتی ہو۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ اختیار میں تبدیلی کرسکتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں