The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کے اسکولوں میں سافٹ ڈرنک پر پابندی پر غور

لاہور: پنجاب بھر کے اسکولوں میں حفاظتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سافٹ ڈرنکس پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی صوبے بھر کے اسکولوں میں سافٹ ڈرنکس پر پابندی عائد کرنے کے لیے سفارشات مرتب کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں اتھارٹی کی جانب سے تجویز دی جارہی ہے کہ اسکولوں کی کینٹین میں سافٹ ڈرنکس کی جگہ صحت مند مشروبات جیسے فلیورڈ ملک اور تازہ پھلوں کے جوسز فروخت کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: سافٹ ڈرنکس قبل از وقت بوڑھا کرنے کا سبب

مرتب کی جانے والی سفارشات میں یہ سفارش بھی شامل کی جارہی ہے کہ اسکولوں کی کینٹین انتظامیہ کو جنک فوڈ کے بجائے صحت مند غذائی اشیا رکھنے کا پابند بنایا جائے۔

یہ سفارشات اتھارٹی کی آئندہ بورڈ میٹنگ میں پیش کی جائیں گی۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نور امین مینگل نے اس بارے میں بتایا کہ جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنکس صحت پر نہایت خطرناک اثرات مرتب کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کے بچوں کو یہ اشیا فراہم کرنے کا مطلب پاکستان کی نئی نسل کو بے شمار بیماریوں اور صحت سے متعلق خطرات سے دو چار کرنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں کی کینٹینز میں فلیورڈ ملک، جوسز، پھل ور ابلے ہوئے انڈے فروخت کیے جانے چاہیئں تاکہ بچوں کی جسمانی غذائی ضروریات پوری ہوں اور ان کی جسمانی و دماغی نشونما میں اضافہ ہو۔

جنک فوڈ خاموش بھوک کا سبب

ماہر غذائیات ڈاکٹر ظفر محمود کا کہنا ہے کہ جنک فوڈ اور کولڈ ڈرنکس کا ایک ساتھ استعمال، جو باآسانی بازاروں میں دستیاب ہیں، جسم میں ایک ’خاموش بھوک‘ پیدا کردیتی ہیں جس میں پیٹ بھرنے کا احساس تو ہوتا ہے تاہم جسم غذائیت سے محروم رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سافٹ ڈرنکس نشونما پاتے بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور معدے کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: جنک فوڈ کا زیادہ استعمال ڈپریشن کا سبب

ان کے مطابق سافٹ ڈرنکس بچوں کی ذہنی نشونما کے لیے بھی خطرناک ہے اور اس کا مستقل استعمال بچوں میں کسی شے پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اسکولوں میں سافٹ ڈرنکس پر پابندی کا قانون نیا نہیں۔ سنہ 2010 میں سابق امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اسکولوں میں اس زہر قاتل مشروب کی پابندی کے بل پر دستخط کیے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں