The news is by your side.

Advertisement

روس کے پاس امریکا سے زیادہ خطرناک تمام بموں کا باپ

امریکا نے گزشتہ روز افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرا دیا۔ تاہم اس کا یہ بم روس کے اس بم کے آگے کچھ بھی نہیں جو اپنے ہدف کو بھاپ بنا کر اڑا سکتا ہے۔

امریکا کے غیر جوہری بم جی بی یو – 43، جسے تمام بموں کی ماں کہا جاتا ہے میں 21 ہزار 600 پاؤنڈ (قریباً 11 ٹن) دھماکہ خیز مواد تھا۔

تاہم عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ روس کے پاس اس سے بھی بڑا بم ہے جو ہلاکت خیری میں امریکا کے بم سے 4 گنا زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے افغانستان پر دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم گرا دیا

ماہرین کے مطابق اس بم کی تباہ کاری کے سبب اگر اسے ’تمام بموں کا باپ‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

روس کا یہ تھرمو بیرک غیر جوہری بم اپنے اندر 44 ٹن دھماکہ خیز مواد رکھتا ہے اور اس کی تباہی کا دائرہ کار ایک ہزار فٹ تک ہوسکتا ہے۔

سنہ 2007 میں تیار کیے جانے والا یہ بم غیر جوہری ہے اور تابکار مادوں و شعاعوں کا اخراج نہیں کر سکتا، تاہم یہ بم ہلاکت خیزی میں کہیں آگے ہے اور یہ فضا میں موجود آکسیجن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ٹارگٹ کو بھاپ بنا کر اڑا سکتا ہے، عمارتوں کو بالکل ملیا میٹ کرسکتا ہے، اور وقفے وقفے سے سماعت شکن دھماکوں کا باعث بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے ’تمام بموں کی ماں‘ کے حملے میں اب تک داعش کے 36 جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں