site
stats
اے آر وائی خصوصی

سانحہ بلدیہ فیکٹری کو5سال ہوگئے، لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر

کراچی : سانحہ بلدیہ فیکٹری کو پانچ سال ہوگئے، جل کر راکھ ہونے والے259جسموں سے اٹھتا دھواں آج بھی فضا میں انصاف کا طلبگار ہے۔

آج سے پانچ سال قبل آج ہی کی تاریخ میں یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا، سانحہ بلدیہ کراچی فیکٹری کوپانچ سال ہوگئے، پیاروں کے زندہ جلنے کا غم میں ڈوبے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

گیارہ سمتبر دوہزار بارہ کی صبح کراچی بلدیہ میں واقع فیکٹری کے محنت کش یہ نہیں جانتے تھے کہ آج ان کا لاشہ گھر واپس لایا جائے گا۔

جلنے کی ناقابل برداشت بو پر کوئی پہچان بھی نہ پائے گا۔ بندہ خاکی راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ تحقیقات میں ہولناک انکشاف ہوا کہ آگ لگی نہیں لگائی گئی تھی، وجہ بھتہ نہ ملنا تھا۔

تفتیش کا دائرہ آگے بڑھا تو ایک سیاسی جماعتوں سے وابستہ بڑے بڑے نام سامنے آئے گرفتاریاں بھی ہوئیں، جے آئی ٹی بنی لیکن لخت جگر کی جدائی پر آنسو بہاتی ماں کو انصاف ملا اور نہ ہی بڑھاپے کا سہارا چھن جانے پر باپ کا ہاتھ قاتلوں کے گریبان تک پہنچا۔


مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ: آگ فیکٹری منیجر نے لگوائی، ملزم کا انکشاف


بیواؤں اور یتیموں کی چیخیں آج بھی فلک کو چیرتی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک دو نہیں درجنوں بے گناہوں کے خون کا حساب کس سے لیا جائے گا؟ کیس کی فائلوں پر پڑنے والی گرد کی تہیں موٹی ہوتی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ: ہاں آگ میں نے لگائی، رحمان بھولا عدالت میں روپڑا

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top