The news is by your side.

Advertisement

سعودی شہزادے کی اہم پیش گوئی

ریاض : سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ گیس سے تیل کی طرف جانے والے صارفین یومیہ 5 سے 6 لاکھ بیرل کی طلب کرسکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ دنیا میں اب توانائی کے شعبے میں قلت پیدا ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ممکنہ تبدیلی کا انحصار اس بات پر ہے کہ سردیوں کا موسم کتنا شدید ہوگا اور متبادل توانائی کی قیمتیں کتنی مہنگی ہوں گی۔

سعودی وزیر توانائی نے توانائی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کا باعث بننے والے عوامل کی ایک وسیع رینج کا خاکہ پیش کیا جس میں ہائیڈرو کاربن اور انفراسٹرکچر میں محدود سرمایہ کاری، کم انوینٹری، لاک ڈاؤنز کو اٹھانا اور کوویڈ 19 ویکسین اپ ٹیک ریٹ شامل ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز نے سی ای آر اے ویک انڈیا انجرنی فورم کو بتایا کہ ’لوگ اچانک اس حقیقت سے بیدار ہوگئے کہ وہ سب کچھ ختم کر رہے ہیں، ان کی سرمایہ کاری ختم ہو گئی ہے، ان کے پاس اسٹاک ختم ہو گئے ہیں اور وہ تخلیقی صلاحیتوں سے باہر ہوگئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سمندری طوفانوں کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس نے تیل کی پیداوار  اور  ریفائننگ کو متاثر کیا ہے اور ایک خیال ہے کہ ہمارے پاس شدید سردی کا موسم ہو گا جو ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘

سعودی وزیر توانائی نے کہا کہ اس توقع کی کمی ہے کہ عالمی معیشت اتنی تیزی سے ترقی کرے گی جتنی کہ اب کر رہی ہے۔  انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے گذشتہ ہفتے 2021 اور 2022 کے لیے اپنی عالمی تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کو زیادہ ایڈجسٹ کیا

جس کی ایک وجہ یومیہ 5 لاکھ بیرل کے متوقع اضافہ ہے کیونکہ بجلی کی پیداوار اور ہیوی انڈسٹری کے شعبے زیادہ مہنگی قدرتی گیس اور کوئلے سے ایندھن کے تیل اور پٹرول پر تبدیل ہوتے ہیں۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کہا کہ توانائی کی قلت افراط زر کو روک سکتی ہے اور کوویڈ 19 سے دنیا کی بحالی کو سست کر سکتی ہے۔ شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ دنیا کو توانائی کی فراہمی کی سیکیورٹی پر توجہ دینی چاہیے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں