The news is by your side.

Advertisement

معروف کارساز کمپنی سابق ملازم سے مقدمہ ہار گئی

کیلیفورنیا: امریکی عدالت نے کارساز کمپنی ٹیسلا کے خلاف بڑا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیلیفورنیا کی ایک عدالت نے مشہور و معروف کار ساز کمپنی ٹیسلا کو نسل پرستی کا الزام ثابت ہونے پر اپنے سابق ملازم کو 13.70 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ٹیسلا کے خلاف مقدمہ اس کے سابق ملازم اووین ڈیئز، ان کے بیٹے ڈیمیٹرک اور ایک تیسرے ملازم نے درج کرایا تھا، جس میں موقف اپنایا گیا کہ دوران ملازمت شکایت کنندہ کو ایسی صورتحال کا سامنا تھا جیسے اسے ’جم کرو کے دور‘ کا سامنا ہو، اووین ڈیئز نے کہا ہے کہ شکایت کرنے کے باوجود ٹیسلا نے نسل پرستانہ واقعات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

واضح رہے کہ جم کرو اس دور کو کہا جاتا ہے جس میں 1877 سے 1950 کی دہائی کے دوران امریکا کی جنوبی ریاستوں میں نسل پرستانہ قوانین رائج تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مشہور کارساز کمپنی نے فروخت شدہ لاکھوں گاڑیاں واپس منگوا لیں

عدالت نے تمام تر حقائق جانچنے کے بعد فیصلہ دیا کہ اووین ڈیئز کے کیس میں عدالتی حکم نامے کے مطابق ٹیسلا نے ترقی پسند ہونے کا لبادا اوڑھ رکھا ہے جبکہ اصل میں وہاں افریقی نژاد امریکی ملازمین کے ساتھ رجعت پسند اور توہین آمیز رویہ رکھا جاتا ہے۔

سان فرانسسکو کی عدالت نے حکم دیا کہ ٹیسلا اووین ڈیئز کو تعزیراتی نقصان کے طور پر 13 کروڑ ڈالر اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنے کے لیے 69 لاکھ ڈالر ادا کرے۔

عدالتی فیصلے کے بعد کیلیفورنیا سول رائٹس لا گروپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو سچ نظر آیا اور انہوں نے اتنی بڑی رقم کا حکم دے کر ٹیسلا کو پیغام دیا کہ اسے اپنے نسل پرستانہ رویے درست کرنے ہوں گے۔

عدالتی حکم کے بعد ٹیسلا نے اپنے ہیومن ریسورس کی نائب صدر ویلری کیپرز کی جانب سے ایک بلاگ شائع کیا جس میں تمام الزامات کی تردید کی گئی ہے، تاہم اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ جب اووین ڈیئز ٹیسلا میں کام کرتے تھے اس وقت وہاں کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں