The news is by your side.

Advertisement

کراچی:‌ اسکول جانے والی 3 طالبات لاپتا، آئی جی کا نوٹس

کراچی: شہر قائد کے علاقے سعود آباد میں نویں جماعت کی تین بچیاں اسکول جانے کے بعد لاپتا ہوگئیں، علاقہ مکینوں نے بچیوں کی بازیابی کے لیے تھانے کا گھیرائو کرلیا، آئی جی نے نوٹس لیتے ہوئے بچیوں کی بازیابی کے لیے فوری تحقیقات کا حکم دے دیاجب کہ مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق سعود آباد میں نویں جماعت کی تین بچیاں اسکول گئیں تاہم واپس نہ آئیں، والدین نے بچیوں کی تلاش شروع کردی، اسکول انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بچیاں اسکول نہیں آئیں اور ان کی حاضری ہی نہیں لگی جب کہ والدی کا موقف تھا کہ بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، بچیاں اسکول گئی ہیں۔

پولیس کا عدم تعاون، مکینوں کا سعود آباد تھانے کا گھیرائو

لاپتا ہونے والے بچیوں میں 14 سالہ بسمہ، 14 سالہ اقراء مکرم اور 15 سالہ رابعہ خورشید شامل ہیں جو کہ ٹی سی ایف اسکول ملیر کی طالبات ہیں۔واقعے کے بعد مکینوں نے پولیس سے رجوع کیا لیکن انہوں نے کسی بھی قسم کا تعاون کرنے اور مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا جس پر مکینوں نے سعود آباد تھانے کا گھیرائو کیا اور پولیس سے تحقیقات کا مطالبہ کیا بعدازاں رینجرز کی مداخلت اور آئی جی کے نوٹس پر بچیوں کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

تینوں بچیوں کے رشتہ دار تھانے کے باہر موجود تھے پریشانی اور غم سے ان کے والدین کی حالت ابتر تھی۔

رینجرز سے کہا تو پولیس نے تعاون کیا،عزیز

اے آر وائی نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بچیوں کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ پولیس نے اب تعاون شروع کیا ہے جو انہوں نے بہت دیر سے کیا، پہلے انہوں نے صرف وقت ضائع کیا، رینجرز سے ملے تو اس کے بعد ہی مقدمہ درج ہوا اور پولیس اب فعال ہوگئی۔

بچیاں ہمارے سامنے اسکول کے اندر گئیں، رشتہ دار

انہوں نے انکشاف کیا کہ بچیوں کو چھوڑنے ہمیشہ ان کی والدہ ساتھ جاتی ہیں اور گیٹ پر چھوڑ کر ان کے اندر جانے کے بعد واپس چلی جاتی ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے ، والدہ کی آنکھوں کے سامنے بچیاں اسکول کے گیٹ سے اندر گئیں جس پر والدہ واپس چلی گئیں تاہم اسکول انتظامیہ بچیوں کی اسکول آمد اور حاضری لگنے سے ہی انکار کررہی ہے جس سے معاملہ مشکوک ہوگیا ہے۔

بچیوں کی بازیابی، والدین سے مثبت رویہ اپنانے کا حکم

واقعے کے حوالے سے آئی جی سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ نے نوٹس لیتے ہوئے بچیوں کی فوری بازیابی کے لیے تحقیقات کا حکم دےدیا۔

ترجمان سندھ پولیس کے مطابق میڈیا پر تین بچیوں کے مبینہ طور پرلاپتا ہونے کے حوالے سے رپورٹ پر نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ڈی آئی جی ایسٹ کو ہدایات جاری کیں ہیں کہ لاپتا بچیوں کے والدین سے تمام ضروری تفصیلات پر مشتمل معلومات کی روشنی میں جامع انکوائری کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بچیوں کے والدین کے ساتھ انتہائی مثبت برتاؤ کیا جائے اور تمام تر تفتیشی صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہںوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اے وی سی سی کو بازیابی کا خصوصی ٹاسک

اطلاعات کے مطابق بچیوں کے اغوا کا معاملہ حل کرنےکا ٹاسک خصوصی طور پر اے وی سی سی(اینٹی وائلنٹ کرائم سیل) کو دے دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اے وی سی سی کے افسران کا کہنا ہے کہ کیس کو جلد سے جلد حل کرنےکی کوشش کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں