site
stats
ماحولیات

کنارے پر آنے والے کچھوے موت کے منہ میں

سکھر: دریائے سندھ میں پانی اترنے کے وہاں موجود کچھو ے کنارے پر امڈ آئے۔ کنارے پر آئے اور جال میں پھنسے کچھوؤں سے بچے کھیلنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر پانی اترنے کے بعد کنارے پر کچھوے امڈ آئے۔ بے شمار کچھوے وہاں بچھائے گئے جالوں میں پھنس گئے۔

کچھوؤں کے کنارے پر آنے سے وہاں موجود بچوں کو تفریح ہاتھ آگئی اور وہ کچھوؤں سے کھیلنے لگے۔ کچھ افراد کچھوؤں کو پکڑ کر گھر بھی لے گئے۔

مزید پڑھیں: کراچی سے نایاب نسل کے 62 کچھوے برآمد

محکمہ جنگلی حیات کی ٹیم تاحال کچھوؤں کو بچانے نہیں پہنچی اور کچھوے کنارے پر بے یار و مدد گار پڑے رہے۔

دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر سکھر تاج شیخ کا کہنا ہے کہ پانی اترنے پر صرف انڈس ڈولفن کو ریسکیو کیا جاتا ہے جو پانی اترنے یا راستہ بھولنے کے باعث نہروں میں آنکلتی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھوؤں کی نسل میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے اور اس کی نسل کشی کی جہاں بے شمار وجوہات ہیں وہیں اس طرح دریا میں پانی کم ہونے سے بھی ہزاروں کچھوؤں کو زندگی کے خاتمے کا خطرہ لاحق ہے۔

واضح رہے کہ کچھوؤں کو سب سے بڑا خطرہ غیر قانونی اسمگلنگ سے لاحق ہے جس کے لیے ہر سال ہزاروں کچھوؤں کو پکڑا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق دنیا بھر میں کچھوے کے گوشت کی بے حد مانگ ہے اور اس طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان سمیت کئی ممالک سے کچھوؤں کی غیر قانونی تجارت نیپال، ہانگ کانگ، چین، انڈونیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا اور ویتنام وغیرہ کی طرف کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام یو این ای پی کے مطابق اس کا گوشت کھانے جبکہ اس کے انڈوں کے خول زیورات اور آرائشی اشیا بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ کچھوے کے جسم کے مختلف حصے شہوت بڑھانے والی دواؤں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: تفصیلی رپورٹ ۔ کچھوے کی غیر قانونی تجارت

سندھ وائلڈ لائف کے اہلکار عدنان حمید کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک کچھوے کی قیمت 1500 ڈالر ہے۔ مقامی طور پر جب خرید و فروخت کی جاتی ہے تو ایک کچھوا 15 ڈالر میں بکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 15 ڈالر کی خریداری، اور تمام شامل حکام کو ان کا ’حصہ‘ دینے میں 20 سے 25 ہزار روپے لگتے ہیں۔ یہ قیمت آگے جا کر کئی گنا اضافے سے وصول ہوجاتی ہے چنانچہ شارٹ کٹ کے متلاشی افراد کے لیے یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top