site
stats
اہم ترین

وزیر خزانہ کی گھڑی کے بیس لاکھ روپے لگ چکے ہیں، جمشید دستی

کراچی : رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کی گھڑی کے بیس لاکھ روپے لگ چکے ہیں، گھڑی یقینا 50لاکھ کی ہی ہے، اس بات کا انکشاف انہوں نے اے آر وائی کے پروگرام الیوتھ آور میں وسیم بادامی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

جمشید دستی نے بتایا کہ مذکورہ گھڑی اسپیکر کے پاس ہے امید ہے وہ امانت میں خیانت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہم سب عوامی نمائندے ہیں اورعوام کو جواب دہ ہیں، یہ بات مجھے نواز لیگ کے ایک ایم این اے کے ذریعے معلوم ہوئی کہ وزیر خزانہ کے پاس آٹھ کروڑ کی گاڑی ہے، قیمتی بنگلے ہیں اور وہ پچاس لاکھ کی گھڑی باندھتے ہیں۔


Dasti claims PML-N legislator offered Rs3 lac… by arynews

انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی تھی وزیر خزانہ نے غصے میں کر وہ گھڑی ہاتھ سے اتار دی، یہ گھڑی نہ میں نے باندھی اور نہ مجھے اس کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک مقروض ملک میں رہتے ہیں پاکستان قرضوں میں پھنسا ہوا ہے ہمیں سادگی اپنانی چاہیئے، انہوں نے کہا کہ یہ گھڑی قوم کی امانت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں شراب کی ایک ہزار بوتلوں کے موقف پر اب بھی قائم ہوں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وزیر داخلہ اس کا نوٹس لیتے الٹا میرے خلاف ہی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرادی گئی۔

نون لیگ میں گروپ بندی کے حوالے سے سوال پر جمشید دستی نے کہا کہ میں یہ سچ کہہ رہا ہوں کہ نواز لیگ میں فارورڈ بلاک بن رہا ہے، شہباز شریف اور چوہدرری نثار ایک لائن میں ہیں اور خواجہ گروپ اور میاں صاحب الگ گروپ ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حمزہ شہباز تین سے چار کروڑ روپے ڈی سی اوز سے بھتہ لیتا ہے، میں نے اسمبلی میں کہا ہے کہ یہ گروہپ بندی پورہی ہے چوہدری نثار شہباز شریف کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار ہیں اور وہی پروٹوکول مانگنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی پارٹی پاکستان عوامی راج کے نام سے رجسٹر کرائی ہے، اور ہم اس میں کسی لٹیرے یا لوٹے کو شامل نہیں کریں گے۔

عمران کان کے حوالے سے جمشید دستی نے کہا کہ عمران کان نے عوام کو دھوکہ دیا، جس زرداری کو وہ لٹیرا اور چور کہتے تھے اب وہ مردہ پیپلز پارٹی کو زندہ کرنے کیلئےان ہی کے نمائندوں کے پیچھے کھڑے ہیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top