The news is by your side.

Advertisement

جنوبی افریقا میں‌ ہنگامے پھوٹ‌ پڑے، 10 ہلاک، فوج تعینات

جوہانسبرگ: جنوبی افریقا کے سابق صدر جیکب زوما کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف علاقوں‌ میں‌ ہنگامے پھوٹ‌پڑے، صورت حال کے پیش نظر فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افریقی صدر  جیکب کی گرفتاری کے بعد اُن کے حامیوں نے مظاہرے شروع کیے، جنہیں پولیس نے منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تو مظاہرین نے جلاؤ گھیرا اور لوٹ مار شروع کردی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا گیا جس میں دس افراد کی ہلاکت ہوئی۔

مظاہرین کی ہلاکت کے بعد جنوبی افریقا کے مختلف شہریوں کی صورت حال اس قدر کشیدہ ہوئی کہ حکومت نے فوج کو طلب کر کے سارا کنٹرول اُسی کے ہاتھ میں کردیا۔

یاد رہے کہ جیکب زوما پر 2009 میں سرکاری خزانے سے رقم کے غلط استعمال کا الزام تھا، جس پر عدالت نے انہیں بے گناہی ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا اور نہ کرنے پر پندہ ماہ قید کی سزا سنادی۔

مزید پڑھیں: توہین عدالت کا الزام: جنوبی افریقہ کے سابق صدر کو قید کی سزا

زوما نے پولیس اسٹیشن جاکر خود گرفتار دی جس کے بعد ان کے حامی سڑکوں پر نکلے اور سب سے پہلے سابق صدر کے گھر کے باہر جمع ہوکر ٹائز نذر آتش کیے۔

پولیس حکام کے مطابق احتجاج کا یہ سلسلہ افریقا کے تمام گنجان آباد شہروں میں پھیل گیا، صوبہ خاؤتنگ سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ جوہانسبرگ میں بھی سابق صدر کے حامی سڑکوں پر ہیں۔

زوما کی گرفتاریوں کے خلاف نکلنے والے حامیوں نے شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچایا اور مختلف مارکیٹوں، بازاروں، شورومز میں لوٹ مار بھی کی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقا کے صدر سیرل راما فوسا نے اپنے بیان میں زوما کا نام لیے بغیر کہا کہ ’تشدد کو سیاسی اور انفرادی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ احتجاج کی آڑ میں موقع پرست افراد اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث خاص گروہ اپنی لوٹ مار چھپانے کے لیے ملک کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے‘۔

راما فوسا نے اعتراف کیا کہ ’ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد باہر نکلی ہے‘۔ انہوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرین تشدد سے گریز کریں اور متحدک رہیں‘۔

افریقی صدر نے بتایا کہ ’پرتشدد واقعات میں اب تک 10 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، پولیس نے 489 افراد کو حراست میں لے کر  تفتیش شروع کردی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں