The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیرکے لیے آواز اٹھانے والے178 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس معطل

ٹویٹ ڈیلیٹ کریں ورنہ اکاؤنٹ بندکردیں گے،سینئیراینکرارشد شریف کو ٹوئٹر انتظامیہ کا نوٹس

اسلام آباد :بھارت دشمنی میں اوچھےہتھکنڈوں پراترآیا، سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیریوں کےلیےآواز اٹھانے والےایک سواٹھہتر پاکستانیوں کے اکاؤنٹس معطل کر دیے جبکہ اے آروائی نیوزکے سینئیراینکرارشد شریف کو بھی ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنے کا نوٹس بھیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق سیکیولر بھارت نے کشمیریوں کے حق میں بولنےوالوں کو بھی نہ بخشا، سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر اور فیس بک پر مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پرآواز اٹھانے والے ایک سو اٹھتر پاکستانیوں کے اکاؤنٹ معطل کردیےگئے۔

پی ٹی اے نے صارفین کی شکایت ملنے پر ٹوئٹر انتظامیہ کو خط لکھ دیا ہے۔

ٹوئٹر انتظامیہ نے اے آروائی نیوز کے سینیئر اینکرارشد شریف کو کشمیرسےمتعلق ٹویٹس ڈیلیٹ کرنے کا نوٹس دے دیا اور دھمکی دی ہمیں بھارتی حکومت سےآپ کی شکایات ملی ہیں، دونوں ٹویٹ ڈیلیٹ کریں ورنہ اکاؤنٹ بندکردیں گے۔

ارشد شریف سمیت کشمیر پر آواز اٹھانے والے دیگرصحافیوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئےہیں۔

خیال رہے دنیا بھر میں ڈیجٹیل میڈیا کو آزادانہ رائے کے اظہار کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے ٹوئیٹر اور فیس بک پر موجود جموں و کشمیر کے بارے میں کسی طرح کی بھی حمایت کرنے والے والے بیانات کو ان کے صفحات سے ہٹایا جارہا ہے۔جب کہ ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعے دنیا بھر کو جموں و کشمیر میں بھارتی بربریت کے بارے میں معلومات دی جارہی تھیں۔

پاکستان میں ٹویٹرکے 1.62 ملین جبکہ 31 ملین فیس بک کو استعمال کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے حالات و واقعات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے والے افراد کے اکاونٹس کو معطل کردیا گیا ہے۔ بھارت کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ٹوئیٹر اور فیس بک اکاونٹس کے استعمال پرقبضہ کرنے کے لئے ہندوستانی قانون لاگو کو کیا جارہا ہے۔ اس کی بینادی وجہ یہ ہے کہ ٹویئٹر اور فیس بک دونوں ہندوستان میں رجسٹرڈ ہیں۔جسکی وجہ سے پاکستان کی عوام کی طرف سے جو بھی سوشل میڈیا پرجموں و کشمیر کے بارے میں مواد پیش کیا جارہا ہے اس کو معطل کیا جارہا ہے جس پر پاکستانی عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔

پاکستانی عوام سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہناتھا کہ جموں و کشمیر کے حالات کے بارے میں آگاہی کس طرح دی جائے اور کیسے ممکن ہے کہ دنیا کے سامنے بھارت کا گھناونا چہرہ دیکھایا جائے کیوں کہ وہ کشمیری عوام کے بارے میں آگاہی کے لئے جو بھی خبر دے رہے ہیں ان کو صفحات سے ہٹایا جا رہا ہے جو کہ ظلم کے مترادف ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں