The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان اسمبلی نے تیسرے پارلیمانی سال کے سو دن مکمل کرلئے

کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی نے تیسرے پارلیمانی سال کے سو دن مکمل کرلئے ہیں پارلیمانی سال کے دوران 28بل منظور کئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت ہوا ،اسپیکر کے مطابق رواں پارلیمانی سال88سوالات کے نوٹس جبکہ 67 سوالات نمٹا دیئے گئے اور اٹھائیس بل منظور کئے گئے پارلیمانی سال کے دوران کل 29تحریک التواء پیش ہوئیں۔

اسمبلی نے 12تحریک التواء باضابطہ منظور جبکہ17نمٹا دیں، پارلیمانی سال کے دوران 4تحریک التواء اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے سفارشات کے بعد منظور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران کرپشن کے اسکینڈل پر اپوزیشن نے واک آوٹ کیا ، اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی مجید خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ سابق دور حکومت میں مختلف محکموں میں کرپشن کی گئی اپوزیشن لیڈر کے حلقے میں ایک سڑک پر ایک ارب روپے لگائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اسکیم پر گریڈ 14 کے افسر نے نیب کے ساتھ بارگینگ کرکے 37کروڑ روپے جمع کروائے۔

مولانا عبدالواسع کے خواہش کے مطابق سال 2002ء سے احتساب کا عمل شروع کریں گے، صوبائی وزیر تعلیم نے اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ بلوچستان میں نو سو گھوسٹ اسکول موجود ہیں جن کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور گھوسٹ اسکولوں میں پندرہ ہزار اساتذہ کا کوئی پتہ نہیں چل سکا اور ان کا کوئی بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس وقت 11900پرائمری،1150مڈل اور ایک ہزار ہائی اسکولز ہیں، اور رواں سال دیہی علاقوں میں 5سو پرائمری،3سو ہائی اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں