The news is by your side.

Advertisement

سی ٹی ڈی صدر دھماکے میں ملوث دہشت گرد اللہ ڈنو کی آڈیو کال سامنے لے آئی ، تہلکہ خیز انکشافات

کراچی : سی ٹی ڈی حکام صدر دھماکے میں ملوث ہلاک دہشت گرد اللہ ڈنو کی آڈیوکال سامنے لے آئی اور بتایا کہ دہشت گرد اللہ ڈنو کو پیسہ را سے مل رہا تھا۔

تفصیلات کے مطابق مرتضیٰ وہاب اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خرم علی کی سربراہی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے ویڈیو اور آڈیو شواہد کے ذریعے کراچی میں آئی ای ڈی دھماکے میں اللہ ڈنو کے ملوث ہونے کے شواہد شیئر کیے۔

سی ٹی ڈی حکام نے مارے گئے دہشت گرداللہ ڈنو کی آڈیو کال بھی سنائی ، جس میں دہشت گرد اللہ ڈنو اور اس کے سرغنہ اصغر شاہ کو بات کرتے سنا جاسکتا ہے۔

سی ٹی ڈی اہلکار نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ اللہ ڈنوکل کارروائی میں ماراگیا، وہ گزری کےعلاقے میں رہائش پذیر تھااور نواب بھی اس کیساتھ تھا۔

خرم علی کا کہنا تھا کہ اللہ ڈنو صدر دھماکےمیں ملوث تھا اور اس سے متعلق ٹھوس شواہدموجود تھے اللہ ڈنو پربھٹ شاہ میں مقدمہ درج تھا اور پہلےگرفتار بھی ہوچکا تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ملزم ایران سےتربیت لےکرآیاتھا اور ایران میں اپنی تنظیم سے رابطے میں تھا ، اللہ ڈنو کوبیرون ملک مختلف ذرائع سے پونے دو لاکھ روپے وصول ہوئے ۔

خرم علی نے کہا کہ شواہد یہی مل رہے ہیں دہشت گرد اللہ ڈنو کو پیسہ را سے ہی آرہاتھا، عمر کوٹ کا رہائشی دہشت گرد اللہ ڈنو آئی ای ڈی بنانے کا ماہر تھا جبکہ ریلوے ٹریک دھماکوں میں بھی ملوث تھا۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ صدر دھماکے کے وقت دہشت گرد ساڑھے 5کلو میٹر پیدل چل کر آیا اور ماحول سازگار دیکھا تو صدر میں دھماکا کیا ، قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے تمام فوٹیجز حاصل کیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ حالیہ صدر بم دھماکے میں یہی دہشتگرد ملوث تھا، دہشت گرد ریاست مخالف احتجاج ودیگر سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔

جامعہ کراچی خودکش دھماکے کے حوالے سے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی خودکش دھماکے پر انجنسیاں کام کررہی ہیں، جامعہ کراچی خودکش دھماکے کی تفتیش میں پیشرفت ہوئی، جامعہ کراچی خودکش حملےکی تفتیش سے جلد آگاہ کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں