The news is by your side.

Advertisement

ملکی ترقی و استحکام کے لیے عوام کے معیار زندگی میں بہتری ضروری ہے: مشیر خزانہ

اسلام آباد: مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی و استحکام کے لیے پہلے عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانا ہوگی، عوام کا معیار زندگی بہتر بنائے بغیر ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔

تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے پیس اینڈ ڈیولپمنٹ کانفرنس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمگیریت کے دور میں کوئی ملک اکیلا ترقی نہیں کر سکتا، ترقی و خوشحالی کے لیے دیگر ممالک سے شراکت داری بنیادی شرط ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترقی و خوشحالی کے لیے کسی بھی ملک کے نجی شعبے کا فعال ہونا ضروری ہے۔ جب تک امیر طبقہ سرمایہ کاری نہیں کرے گا ملک میں ترقی ممکن نہیں۔ دولت مند افراد خود فیصلے نہیں کر سکتے بلکہ بینکر فیصلے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہوگا خطے کے دوسرے ممالک کیسے آگے بڑھ رہے ہیں، سنگا پور کی فی کس آمدنی اس خطے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اس خطے میں گروتھ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملکی ترقی و استحکام کے لیے پہلے عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانا ہوگی۔ عوام کا معیار زندگی بہتر بنائے بغیر ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترقی کے حصول کے لیے شخصیات اور وزرا اہم نہیں ہوتے، ملکی ترقی کے لیے حکومتی پالیسیاں اور تسلسل اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں غربت کے خاتمے تک ترقی نہیں ہوسکتی۔ حکومتیں جو بھی کرتی ہیں عوام بنیادی مرکز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں ترقی کے لیے ضروری ہے تمام ممالک مل کر آگے بڑھیں۔ اس خطے میں ترقی کے متعدد مواقع موجود ہیں۔ مختلف شعبوں میں خطے کے ممالک سے تعاون کو بڑھانا ہوگا۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بہترین دوست چین، ترکی اور سعودی عرب ہیں۔ پاکستان کا نجی شعبہ تینوں ملکوں میں منڈیاں تلاش کر سکتا ہے۔ کئی ملکوں کے
اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں۔ سعودی عرب بھی باہر پڑا سرمایہ واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ باہر سے سرمایہ لانے کے لیے سازگار ماحول دینا ہوگا۔ سرمایہ کاری کا ماحول اور مواقع ہوں گے تو سرمایہ کار خود آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خطے میں ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ہم نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 40 فیصد کمی کی ہے۔ طور خم باڈر کو 24 گھنٹے کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ توانائی میں خود انحصاری کے لیے کاسا 1000 منصوبے پر کام جاری ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت دنیا کے کسی بھی ملک کی ہو لاکھوں نوکریاں نہیں دے سکتی، پاکستان پر امن اور خوشحال افغانستان کا حامی ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ بھی تجارت بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں ایکسپورٹ پر کوئی ٹیکس نہیں۔ جو ملک اپنے پڑوسیوں سے مل کر نہیں چلتے ترقی نہیں کرتے۔ حکومت محض ایک پالیسی ساز ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں