The news is by your side.

Advertisement

قادسیہ کے مقام پر کس برگزیدہ ہستی نے بڑھیا کو دعا دی تھی؟

جنگِ قادسیہ کے بارے میں آپ سبھی نے پڑھا ہوگا۔ یہ فارس میں مسلمانوں کی فتوحات کے زمانے کی وہ جنگ تھی جو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور لڑی گئی۔

اس جنگ میں عرب سپہ سالار سعد بن ابی وقاصؓ نے ایرانی بادشاہ کو زیر کیا اور مسلمان فتح یاب ہوئے تھے۔

قادسیہ، ساسانی سلطنت اور خلافتِ راشدہ کے زمانے تک عراق کا مشہور شہر رہا ہے۔ موجودہ قادسیہ شہر کوفہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم اس زمانے میں اس شہر کے جغرافیے اور حدود سے متعلق مؤرخین اور محققین نے مختلف خیال ظاہر کیے ہیں اور اس کے محلِ وقوع، نام سے متعلق ان کی رائے مختلف ہے۔

موجودہ قادسیہ نجف کے جنوب میں واقع ہے اور اب عراق کا ایک صوبہ ہے۔ انتظامی تقسیم کے بعد اس کا صدر مقام دیوانیہ منتخب کیا گیا ہے۔ قادسیہ نامی موجودہ قصبہ دریائے فرات کی مغربی شاخ کے کنارے جنوب کی طرف واقع ہے۔

ماضی میں جھانکیں تو اس علاقے سے مسلمانوں کا گہرا تعلق سامنے آتا ہے۔ اس شہر کے حوالے سے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کے ناموں کے علاوہ متعدد مذہبی واقعات اور روایات بھی ملتی ہیں۔

ابنِ عینیہ سے روایت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے حاران کا سفر اختیار کیا تو قادسیہ سے گزرے۔ یہاں انھیں ایک بڑھیا ملی جس نے آپ کا سَر دھویا۔ روایت ہے کہ آپؑ نے بڑھیا کو دعا دی کہ تُو اس زمین پر مقدس ٹھیرے۔ یہ علاقہ اسی لیے قادسیہ کہلاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں