The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی نئی قسم مزید سنگین، ایک اہم علامت کی نشاندہی

مانچسٹر: برطانیہ کے طبی ماہرین نے بہنے والے نزلے کو کرونا کی نئی قسم کی اہم علامات قرار دیتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر انہیں بہنے والا نزلہ ہے تو فوری طور پر ٹیسٹ کروائیں۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق کرونا کی نئی قسم برطانیہ کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلنا شروع ہوگئی ہے، نارتھ ویسٹ میں اب تک 100 کیسز سامنے آچکے۔

کرونا کی تغیر شدہ قسم کی تشخیص اُن لوگوں میں بھی ہوئی جنہوں نے حال ہی میں ویکسین لگوائی۔ گھمبیر صورت حال کے پیش نظر محکمہ صحت نے دس لاکھ افراد کو فوری طور پر کرونا تشخیص کے ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کردی۔

محکمہ صحت نے شہریوں کے نام جاری پیغام میں کہا کہ ’ ناک بہنے (بہنے والے نزلے)کی صورت میں فوری ٹیسٹ کروائیں کیونکہ یہ کرونا کی نئی قسم کی اہم علامت ہے‘۔

محکمہ صحت نے بتایا کہ وائرس کی نئی قسم کے کیسز لیورپول،پریسٹن اورلنکاشائر کے علاقوں میں بھی سامنے آئے ہیں، وائرس کی نئی قسم سے متعلق تحقیق کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ، جنازے میں‌ شرکت کرنے والا اسپتال عملہ کرونا کی نئی قسم سے متاثر

واضح رہے کہ ایک روز قبل برطانیہ کے علاقے لیور پول کے 32 شہریوں میں کرونا کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد برطانیہ بھر میں نئی قسم سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد 43 تک پہنچ گئی تھی۔

کرونا کی تغیر شدہ قسم کے گیارہ کیسز برسٹل میں بھی سامنے آئے جبکہ لیور پول کے ویمن اسپتال کے عملے میں بھی نئی قسم کی تشخیص ہوئی۔

اسپتال ذرائع نے بتایا تھا کہ عملے کے چند اراکین نے گزشتہ دنوں ایک جنازے (آخری رسومات) میں شرکت کی تھی، خدشہ ہے کہ انہیں وائرس وہیں سے لگا ہو۔ محکمہ صحت نے کہا تھا کہ کرونا کی نئی قسم سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں، حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ وائرس کی نئی قسم برازیل اور جنوبی افریقہ میں پہلے سے موجود ہے، جسے ماہرین پہلے سے زیادہ خطرناک بتا رہے ہیں۔

کرونا کی نئی قسم کیا ہے؟

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی شکل یاقسم کو ‘وی یو آئی 202012/01’ کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وی یو آئی کرونا کے مقابلے میں 70 فیصد تیزی سے پھیلتا ہے۔ کرونا کی نئی شکل یا قسم کا پہلا کیس تیرہ دسمبر کو برطانیہ کے جنوبی علاقے کاؤنٹی کینٹ میں رپورٹ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا کا قہر، بیک وقت دو اقسام لاحق ہونے کا انکشاف

بعد ازاں جنوبی افریقہ میں بھی کرونا وائرس کی  نئی قسم کی تشخیص ہوئی جسے عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے وی یو آئی سے مختلف قرار دیا۔

نئی قسم زیادہ مہلک ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے مقابلے میں وی یو آئی میں 23 نئی تبدیلیاں دیکھی گئیں، جن میں متاثرہ شخص کا پروٹین بڑھنا اور ایک سے دوسرے انسان میں تیزی و آسانی کے ساتھ منتقل ہونا شامل ہے۔

برطانوی وزیر صحت میٹ ہان کا کہنا تھا کہ ’وی یو آئی کرونا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، مشرقی برطانیہ اور دارالحکومت میں نئے کیسز تیزی سے سامنے آئے ہیں، یہ قسم ویکسین کے خلاف مزاحمت کرسکتا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: کرونا وائرس، 92 سالہ مریض تدفین کے 18 روز بعد زندہ نکلا

برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وٹی کا کہنا تھا کہ ’وی یو آئی کی وجہ سے زیادہ اموات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس حوالے سے ماہرین نے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں اور اب ہم اس پر تحقیق کررہے ہیں تاکہ اصل صورت حال کو جان سکیں‘۔

نئی قسم کے خلاف کرونا ویکسین کارآمد ہوگی؟

برطانیہ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جس میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں، مگر امید ہے کہ کرونا کی نئی قسم ویکسین کی افادیت کو کم نہیں کرے گی‘۔

بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے لیے نئی قسم خطرناک ہے

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ جس طرح کرونا بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا بالکل اُسی طرح نئی قسم بھی انہیں متاثر کرسکتی ہے کیونکہ وی یو آئی کے جو نئے کیسز سامنے آئے اُن میں بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں