The news is by your side.

Advertisement

1978 کی یادیں: قومی کتب خانہ اور اسلام آباد کی مخلتف جامعات کی لائبریریاں

ایک زمانہ تھا جب علم و ادب کے مراکز اور کتب خانے آباد ہوا کرتے تھے۔ لائبریریوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔

ملک کے مختلف علاقوں میں موجود کتب خانوں‌ سے طالب علم اور مطالعہ کے شوقین استفادہ کرتے اور ان کی رونق بحال رکھتے۔ تاہم بعد کے ادوار میں علم و فنون اور سرکاری سطح پر کتب خانوں کی سرپرستی کا سلسلہ ختم ہوتا چلا گیا۔ یوں کئی اہم لائبریریاں اور بلدیہ کے ماتحت کتب خانے ویران ہو گئے۔

الحاج محمد زبیر کی ایک کتاب اسلامی کتب خانے اس حوالے سے اہم کاوش ہے جو 1978 میں شایع ہوئی تھی۔ اس کتاب کی ورق گردانی کے دوران قومی کتب خانہ اسلام آباد اور اسی شہر کی چند دیگر لائبریریوں پر چند سطر پارے نظر سے گزرے۔ ان کا خلاصہ آپ کی نذر ہے۔ مصنف لکھتے ہیں۔

قومی کتب خانہ اسلام آباد کی عمر گو زیادہ نہیں ہے، لیکن اس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس کا شمار پاکستان کے عظیم کتب خانوں میں ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں اردو، عربی اور انگریزی زبان میں کتابوں کی تعداد 39 ہزار تھی۔ عربی زبان میں اتنا اچھا ذخیرہ پاکستان کے کم کتب خانوں میں ملے گا۔

اس کے علاوہ اسلام آباد کی درس گاہوں کے کتب خانوں میں یہاں کی یونیورسٹی لائبریری کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ اس میں سال بہ سال جملہ علم و فنون کی کتابوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان کے نام ور دانش ور پیر حسام الدین کا بیش قیمت ذخیرۂ کتب شامل ہو جانے سے اس لائبریری کی قدر و قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

سینٹرل اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کتب خانہ بھی نہایت عالی شان ہے۔ اس میں علومِ اسلامی پر ایسا ذخیرہ ہے جو کسی اور لائبریری میں نہیں۔ کتب خانہ گنج بخش کی بات کی جائے تو مرکزِ تحقیقات فارسی، ایران و پاکستان کا وہ عظیم کتب خانہ ہے جو حضرت داتا گنج بخش ہجویریؒ کے نام پر قائم ہے۔

یہاں بارہ ہزار مطبوعات اور آٹھ ہزار مخطوطات جمع ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اسلام آباد ہر قسم کے کتب خانوں سے معمور ہے۔ یہاں وفاقی اسمبلی اور سیکریٹریٹ وغیرہ کے دفاتر اور سفارت خانوں کے علاوہ یونیورسٹیاں اور بہت سے تعلیمی و سماجی ادارے بھی ہیں جن سے منسلک کتب خانے بڑے نایاب اور اعلیٰ شمار کیے جاتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں