The news is by your side.

Advertisement

ایمن الظواہری ہلاکت معاملہ، پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے

القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے معاملے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے مارے جانے کے معاملے پر پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر نہیں بتا سکتے کہ حکومت پاکستان کیا کر رہی ہے؟ تاہم متعلقہ اتھارٹی معاملے پر مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا کے افغانستان میں ڈرون حملے میں القاعدہ کا سربراہ ایمن الظواہری مارا گیا تھا۔ ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کی قیادت سنبھالی تھی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کارروائی سے آگاہ کرتے ہوئے ایمن الظواہری کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایمن الظواہری افغانستان میں کامیاب آپریشن کے دوران ڈرون حملے میں مارا گیا ہے اور اس حملے میں کسی عام شہری کی ہلاکت نہیں ہوئی، ہم نے القاعدہ کو مکمل طور پر ختم کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمن الظواہری نائن الیون حملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھا، رواں سال انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ایمن الظواہری کی موجودگی کا پتا چلایا تھا۔ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے امریکی شہریوں کو انصاف مل گیا ہے، ہم ہر قیمت پر امریکا کا دفاع کریں گے، جو لوگ ہمارے لیے خطرہ ہیں ان کا تعاقب کریں گے۔

ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ڈرون حملے کی تصدیق کر دی تھی۔ تاہم انہوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی ملک میں حملہ آور ہونا اس کی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کے مترادف اور عالمی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔

پاکستان نے بھی افغانستان میں امریکا کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے اور اس کے نیتجے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت پر ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں امریکی ڈرون حملے پر پاکستان کا ردعمل

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان میں امریکا کی طرف سے آپریشن پر امریکی حکام کے بیانات دیکھے ہیں، پاکستان دہشت گردی کی ہر صورت کی مذمت کرتا ہے اور دہشتگردی کے خلاف آپریشنز کے ساتھ کھڑا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں