The news is by your side.

Advertisement

پرانی گھڑیوں میں اک نیا جہاں

منی ایچر یعنی ننھا منا آرٹ دیکھنے میں تو نہایت خوبصورت لگتا ہے لیکن اسے بنانے کے لیے نہایت محنت اور مہارت درکار ہے۔

تاہم یونان کے ایک فنکار نے منی ایچر آرٹ کو نئی جہت پر پہنچا دیا، اس نے استعمال شدہ جیبی گھڑیوں میں ایک نیا جہاں تخلیق کر ڈالا۔

گریگوری گروزوس نامی اس فنکار کا کہنا ہے کہ وہ بتانا چاہتا تھا کہ گھڑیاں صرف ٹک ٹک کرنے کے لیے نہیں ہوتیں، ان میں ایک نئی دنیا بسائی جاسکتی ہے۔

گریگوری کا کہنا ہے کہ اس نے ان گھڑیوں میں بنائے گئے آرٹ کو بہت محنت اور تفصیل سے بنایا ہے، ’تاکہ جب ہم اسے کہیں ’چھوٹی سی دنیا‘، تو وہ آرٹ اس پر پورا اترے‘۔

آئیں ان کے تیار کردہ خوبصورت فن پارے دیکھیں۔

کیا آپ بھی اپنی گھڑی میں ایسی ہی ننھی سی دنیا بسانا چاہتے ہیں؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں