پشاور: سرکاری گاڑی میں سوار کم عمر لڑکے کا اسلحے کا آزادانہ استعمال -
The news is by your side.

Advertisement

پشاور: سرکاری گاڑی میں سوار کم عمر لڑکے کا اسلحے کا آزادانہ استعمال

پشاور: پشاور میں سرکاری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے پر گاڑی میں سوار افراد نے اسلحہ نکال لیا اور فریق مخالف کو دھمکانے کی کوشش کی۔ موٹر سائیکل سوار کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ گاڑی میں سوار شخص کی شناخت عمران کے نام سے ہوئی جو کرم ایجنسی کا پولیٹکل ایجنٹ ہے۔

پشاور کے علاقے کینٹ میں موٹر سائیکل اور سرکاری گاڑی کے مابین اوور ٹیکنگ پر تنازعہ ہوا۔ معمولی تکرار پر سرکاری گاڑی میں سوار شخص نائن ایم ایم پستول اور ایک کم عمر نوجوان آٹو میٹک رائفل لے کر باہر آگیا۔ نوجوان آٹو میٹک رائفل سے فریق مخالف کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہا۔

Misuse of weapons and Gov’t vehicle in Peshawar by arynews

واقعہ کی فوٹیج آے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔ فوٹیج میں ایک کم عمر بچہ نوجوان کو فائرنگ سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

گاڑی میں سوار شخص کی شناخت عمران کے نام سے ہوئی جو کرم ایجنسی کا پولیٹکل ایجنٹ ہے۔ عمران نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ گاڑی سے اترنے پر اسے 3 افراد نے گھیر لیا جس کے بعد اس نے اپنے دفاع میں اسلحہ اٹھایا۔

عینی شاہدین کے مطابق گاڑی سے اترنے والے افراد نے فائرنگ بھی کی جس سے خوش قسمتی سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ جائے وقوع سے گولیوں کے خول بھی ملے۔

peshawar-post-1

ڈی ایس پی کینٹ کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل سوار کی مدعیت میں قتل، اقدام قتل اور 506 ہوائی فائرنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ حاصل شدہ فوٹیج سے سرکاری گاڑی میں سوار افراد کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

اس بات کی بھی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں کہ سرکاری گاڑی میں اسلحہ کیسے آیا اور اسے مختلف چیک پوسٹس سے کیسے گزرنے دیا گیا۔

بعد ازاں گلبہار کے رہائشی موٹر سائیکل سوار راحت نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تلخ کلامی کے بعد گاڑی میں سوار ملزمان نے اس پر اسلحہ تان لیا تھا۔ اس دوران اسلحہ بردار شخص نے اس پر 2 فائر کیے تاہم وہ بچ گیا۔

peshawar-post-2

راحت کا کہنا تھا کہ اسلحہ بردار شخص کا بیٹا بھی وہیں موجود تھا جس نے اس پر آٹو میٹک رائفل تان رکھی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان کو نہیں جانتا لیکن سامنے آنے پر پہچان سکتا ہے۔

دوسری جانب ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ خیبر پختونخوا میں مذکورہ گاڑی کی نمبر پلیٹ بی 2558 والی کئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ اس نمبر پر کوہاٹ، مردان اور ایبٹ آباد میں بھی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں