The news is by your side.

Advertisement

پنجاب اور آزاد کشمیر کا بجٹ منظور

لاہور / مظفر آباد : پنجاب اسمبلی اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز خواجہ نصیر  کے مطابق اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال 2020-2021 کا بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا۔

پنجاب اسمبلی نے 1 کھرب 7 ارب 51 لاکھ 12 ہزار 742 روپے مالیت کے ضمنی مطالبات ذر 2019-20 کثرت رائے منظور کیے، علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری بھی دی۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتیں جاری منصوبّوں کو روک دیتی تھیں جس کی ایک مثال پنجاب اسمبلی کی عمارت بھی ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم میٹرو اور اورنج لائن سمیت دیگر منضوبوں کو مکمل کریں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان کی بجٹ اور ترقیاتی پروگرام حقیقت پسندانہ رکھنے کی ہدایت

یہ پڑھیں: کورونا کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والو کیلیے اضافی الاؤنس کا اعلان

وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ ’کرونا وائرس،ٹڈی دل  کی وبا کے دوران حکومت ایمانداری سے کام کر رہی ہے، تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں فیصلے اور آفیسرز کی تعیناتیاں میرٹ پر ہو رہیں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے لیے کل سے ایڈیشنل آئی جی اور چیف سیکرٹری کے احکامات جاری کر دیے گے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔

وزیر اعلی پنجاب نے محکمہ قانون ، اسمبلی سیکرٹریٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ  ملازمین کیلئے تین ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کا  اعلان کر  دیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے بجٹ کی منظوری پر تمام اراکین اسمبلی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں بجٹ اجلاس پر  بہت تنقید ہوئی اور بولا گیا کہ ہوٹل کے اخراجات زیادہ ہو رہے ہیں، بجٹ اجلاس میں صرف تینتیس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

آزاد کشمیر کا بجٹ منظور

دوسری جانب آزادکشمیرقانون سازاسمبلی نےمالی سال21-2020کا ٹیکس فری بجٹ منظورکرلیا، آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم 1 کھرب 39 ارب 50 کروڑ رکھا گیا۔

حکومت نے بجٹ میں ایک کھرب15ارب غیرترقیاتی منصوبوں کا میزانیہ رکھا جبکہ 24ارب50کروڑت رقیاتی اخراجات کیلئے منظور کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر: 1 کھرب 39 ارب روپے کا بجٹ پیش

وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر نے بجٹ کی منظوری پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آزادکشمیرمیں جمہوری روایات مضبوط ہیں، اپوزیشن نےجمہوری رویےکا مظاہرہ کیاجس پر حکومت اُن کی مشکور ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی اقدامات ناقابل برداشت ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج جبری طورپرقابض ہے،کشمیریوں نےکبھی بھارتی قبضےکو قبول نہیں کیا، غیرریاستی باشندوں کو کشمیر کی شہریت دینا عالمی قوانین کھلی خلاف ورزی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں