The news is by your side.

Advertisement

پاکستان ایٹمی طاقت ہے روہنگیا مسلمانوں کے لیے اقدامات کرے، طاہرالقادری

لاہور : سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو اسلامی ممالک کی سربراہی کرسکتا ہے اس لیے پاکستان کو آگے بڑھ کر روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اٹھانا چاہیے.

وہ ماڈل ٹاؤن میں اپنی جماعت کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے ضمیروں کوجھنجوڑنے کی ضرورت ہے.

ڈاکٹرطاہرالقادری نے کہا کہ ملی حمیت اورغیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے مسلامن بھائیوں کی مدد اور دلجوئی کرنے کے لیے مسلمان حکمراں بغیر کسی دباؤ کو قبول کیے بڑے اورانتہائی قدم اُٹھائیں اور اس روہنگیا مسلمانوں کی آبادکاری پر خصوصی توجہ دیں.

انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمان ایک عرصے سے برما کی زمین پرآباد ہیں آزادی ہند کے بعد 1948 میں جبرآ ہجرت پر مجبور کیے گئے جس کے بعد سے اب تک نسلی اورمذہبی تعصب کی بنیاد پرروہنگیا پرہردورمیں ظلم ڈھائے گئے اور ان کی آباد بستیاں جلائی گئیں جس میں انسان بھی جل کر خاکستر ہو گئے.

ڈاکٹر طاہر القادری نے ترک صدر طیب اردگان کی جرات اور ہمت کوخراک تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم حکمرانوں میں ایک اکیلے ترک صدر تھے جنہوں نے اس ظلم کے خلاف نہ صرف یہ کہ آواز اٹھائی بلکہ ان مظلموں کی آباد کاری کے لیے اپنی تمام تر خدمات دینے کی پیشکش کی.

سربراہ پاکستان عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ میڈیا اوربالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے اب ظلم دنیا کو نظر آ رہا ہے تاہم اب بھی کئی واقعات میڈیا کی دسترس سے باہر ہے میں سوال کرتا ہوں کہ آخربرما میں میڈیا کا داخلہ کیوں بند ہے اورکیوں غیر جانبدار رپوٹنگ کرنے نہیں دی جا رہی ہیں.


 *گزشتہ چند ہفتوں میں میانمارمیں ہلاک افراد کی تعداد 1000 ہوگئی،اقوام متحدہ 


طاہرالقادری نے کہا کہ برما میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا داخلہ بند ہے تاکہ برمی حکومت کے مظالم دنیا کے سامنے آشکار نہ ہوجائیں اگر برمی حکومت کا موقف درست ہے اور دونوں طرف سے واقعات ہو رہے ہیں توعالمی اداروں کو کیوں روکا جاتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ دو طرفہ فسادات ہیں توعالمی برادری کو برما جانے کی اجازت دی جائے تاکہ حقائق کا پتہ چلا جایا جاسکے اور نقصانات کا ازالہ کرتے ہوئے اس مسئلے کا موثر اور پائیدار حل ڈھونڈا جا سکے جب کہ پاکستان کی حکومت بھی اقوام متحدہ میں قرارداد لانے کے لیے اقدامات کرے.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں