The news is by your side.

Advertisement

چینی فوج کی بحیرہ جنوبی چین میں عسکری سرگرمیاں، امریکا نے وارننگ دے دی

واشنگٹن: امریکا نے چینی فوج کی بحیرہ جنوبی چین میں عسکری سرگرمیاں روکنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی سرگرمیاں خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر وفاع چیمز میٹس نے سنگاپور میں جاری سالانہ سیکیورٹی کانفرنس میں آج شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ کی عسکری سرگرمیاں ہمسایہ ملکوں کو ڈرانے دھمکانے کے برابر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے دعووں کے برعکس اس سمندری علاقے میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ میزائل شکن بحری جہاز کو متعین کر رکھا ہے جبکہ چینی صدر شی جن پنگ ہمسایہ ممالک سے کیے گئے وعدوں کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں انہیں فوری طور پر عسکری سرگرمیاں روکنا ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے دعوؤں کے برعکس ہھتیاروں کے اس نظام کو وہاں نصب کرنے کا براہ راست تعلق ان کا فوجی استعمال ہے جس کا مقصد ڈرانا دھمکانا اور دباؤ ڈالنا ہے۔


بھارت افغانستان میں کروڑوں ڈالرزکےمنصوبوں پرکام کررہاہے،امریکی وزیردفاع


جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ بحیرہ جنوبی چین میں چین کی پالیسی ہماری آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دینے کی حکمت عملی کے خلاف ہے، یہ چین کے وسیع مقاصد سے متعلق شکوک وشبہات کا اظہار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ چین بحیرہ جنوبی چین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے دوسری طرف اس متنازع خطے پر ویت نام، فلپائن، برونائی، ملائیشیا اور تائیوان بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔


بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کو استعمال کررہا ہے، امریکی وزیردفاع


خیال رہے کہ چین نے اپنی سرحدوں سے باہر اپنی طاقت کو پروجیکٹ کرنا شروع کر دیا ہے جس میں زیادہ قابل ذکر بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں پر تعمیراتی اور عسکری سرگرمیاں ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریںْ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں