The news is by your side.

Advertisement

قومی ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ نے اہم رازوں سے پردہ اٹھادیا

حال ہی میں قومی ٹیم کے بطور بیٹنگ کوچ سے مستعفی ہونے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر یونس خان نے ماضی کے اہم رازوں سے پردہ فاش کردیا ہے۔

یونس خان نے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف کے ہمراہ اے آر وائی نیوز کے معروف پروگرام ” ہر لمحہ پرجوش” میں خصوصی شرکت کی،جہاں انہوں نے سال دوہزار نو میں ان کی دور کپتانی میں ڈریسنگ روم میں پیش آئے واقعات بیان کئے۔

میزبان وسیم بادامی کی جانب سے بیان واقعے پر یونس خان نے کہا کہ یہ بڑا طویل معاملہ ہے اس پر تفصیلی بات بعد میں کرینگے، میں قصہ مختصر کرتے ہوئے بتارہا ہوں کہ میرے خلاف گروپنگ کرنے والے کھلاڑی بعد میں ٹیم سے آؤٹ ہوگئے تھے۔

یونس خان نے بتایا کہ دو ہزار نو کی چیمپئن ٹرافی کے بعد بورڈ کی جانب سے مجھے کپتانی کی آفر ہوئی تو میں نے سابق چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ سے کہا کہ اگر آپ مجھے کپتان بنانے چاہتے ہیں تو مجھے 2011 کے ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کرے، اگر میں ٹیم کے کھلاڑیوں کو متحد نہ کرسکا تو کپتانی چھوڑ دونگا۔

قومی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے یونس خان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یونس خان کے خلاف ٹیم میں گروپنگ کرانے میں سابق کھلاڑیوں کو بڑا ہاتھ تھا، راشد لطیف نے ایسے کھلاڑیوں کو مہرہ قرار دیا۔

پروگرام میں راشد لطیف نے بڑا دعویٰ کیا کہ یونس خان کے خلاف گروپنگ کرانے والے اس وقت پی ایس ایل کی تین فرنچائزر کو چلا رہے ہیں وہ نوے کی دہائی کے لیجنڈز بھی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں یونس خان نے بتایا کہ جن دس کھلاڑیوں نے قرآن پر حلف لیا تھا وہ قرآن شریف بھی مجھ سے ہی لیکر گئے تھے۔

پروگرام کے میزبان وسیم بادامی نے یونس خان سے سوال کیا کہ آپ نے قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ کا عہدہ کیوں چھوڑا؟ جس پر سابق ٹیسٹ کرکٹر نے جواب دینے سے انکار کیا کہ کچھ دن رہنے دیں، سب سامنے آجائے گا۔

یونس خان نے بیٹنگ کوچ کا عہدہ  لینے سے متعلق بھی بڑا انکشاف کیا کہ انہیں اس عہدے کے لئے دو ہزار سترہ سے آفر تھی مگر اس اہم ترین عہدے کے لئے میں نے تین سال سوچ وبچار کی اور دو ہزار بیس میں قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ کا عہدہ سنبھالا اور آج مستعفی بھی ہوچکا ہوں۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ بیٹنگ کوچ کا عہدہ پی سی بی کو سہارا دینے کے لئے سنبھالا تھا مگر کسی کو میرا سہارا نہیں چاہیئے تو میں کیا کرسکتا ہوں؟، یونس خان نے اس معاملے میں مزید گفتگو کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی دیگر لوگوں کی طرح باہر آکر بورڈ کے خلاف باتیں کروں، یہ نامناسب ہوگا۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں