تازہ ترین

پی ٹی آئی کے بغیرالیکشن کے بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل

چیئرمین اور پی ٹی آئی کے بغیر منصفانہ انتخابات...

چیئرمین پی ٹی آئی کے بغیر بھی الیکشن ہوسکتے ہیں، نگراں وزیراعظم

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ...

نگراں وزیراعظم لندن پہنچ گئے

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ دورہ امریکا کے بعد...

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کی خوشخبری سنادی

کراچی : نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے...

پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آج حلف اٹھائیں گے

عدل و انصاف کے نئے باب کا آج سے آغاز ہوگا سپریم کورٹ کے 29 ویں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی حلف برداری تقریب آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق عدل و انصاف کے ایک نئے باب کا آج سے آغاز ہوگا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 29 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھائیں گے۔ تقریب حلف برداری صبح سوا 10 بجے ایوان صدر میں ہوگی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ان سے حلف لیں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی تقریب حلف برداری میں وفاقی وزرا، سپریم کورٹ کے ججز سمیت اعلیٰ حکام تقریب شرکت کریں گے۔

نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ وہ تحریک پاکستان کے صف اول کے رہنما قاضی محمد عیسٰی کے بیٹے اور پاکستان بننے سے پہلے قلات کے وزیراعظم قاضی جلال الدین کے پوتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب بلوچستان ہائیکورٹ کے تمام پی سی او جج فارغ ہوئے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ براہ راست 5 اگست 2009 کو بلوچستان

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور انہوں نے 5 ستمبر 2014 کو سپریم کورٹ میں بطور جج عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلوں کے اندر ہمیشہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی پر زور دیا، بطور جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بہت سے اہم فیصلے دیے میں جن میں عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے کیلیے محترم کا لفظ استعمال نہ کرنے کی آبزرویشن دینا شامل ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پبلک پارکوں کےاستعمال، ماحولیات، خواتین کے وراثتی حقوق، فیض اباد دھرنا کیس اور اکیسویں آئینی ترمیم کیس میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو بھی غیر آئینی قرار دیا تھا۔

عدالتی کیریئرمیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے حکم ناموں میں سپریم کورٹ میں بینچز کی تشکیل، چیف جسٹس کے اختیارات اور مقدمات مقرر کرنے کے طریقہ کار کے خلاف بھی لکھا۔

پی ٹی آئی کی حکومت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانے کیلیے صدارتی ریفرنس بھی دائر کیا گیا جس کو نظر ثانی میں اکثریت کی بنیاد کالعدم کر دیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک عرصے سے اہم مقدمات میں شامل نہ کرنے کے حوالے سے وکلا کے تحفظات بھی سامنے آتے رہے، وہ پہلے جج ہیں جو جڑانوالا سانحے کے بعد وہاں کے مکینوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ان کے پاس گئے اور انہوں نے پی ڈی ایم دورحکومت میں قومی اسمبلی میں ہونےوالی آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں بھی شرکت کی۔

سپریم کورٹ کے ججز میں اختلافات کے تاثر کو ختم کرنا، مقدمات کو مقرر کرنے، 184 تھری کے استعمال کا طریقہ کار بنانا، زیرالتوا مقدمات کے بیک لاگ کو کم کرنا اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے بڑے چیلنجز ہوں گے۔

Comments

- Advertisement -