The news is by your side.

Advertisement

عدالتی فیصلہ: احمد اویس کو بطور ایڈووکیٹ جنرل کام کرنے کی اجازت مل گئی

لاہور: عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو کام سےروکنےکانوٹیفکیشن نامناسب قرار دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ عدالتی نظام کو خوبصورت بنائیں تاکہ جو آئے وہ خوش دلی سے جائے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو کام سے روکنےکیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ احمد اویس آج بھی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہیں، عدالت میں جس قسم کا نوٹیفکیشن دیا گیا وہ انتہائی غیرمناسب ہے، جس پر عدالت نے اے جی پنجاب کو دیےگئے اختیارات واپس نہ لینےسے متعلق جواب طلب کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ آج ہوگا

دوران سماعت اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کس کی جانب سے پیش ہوئے ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اے جی جواد یعقوب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے انتظامی معاملات دیکھ رہا ہوں۔

جس پر عدالت نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا نوٹیفکیشن کس نےکیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون نے کیا ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے جواب پر عدالت نے استفسار کیا کہ سیکرٹری قانون کو ایڈووکیٹ جنرل کو ہٹانے، نیا لگانےکا اختیارکس نےدیا؟ آپ صرف کسی لا افسر کو کسی کیس میں پیش ہونے کا کہہ سکتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل کو عہدےسے ہٹانےکا معاملہ تو گورنر دیکھ رہے ہیں۔

اس موقع پرعدالت نے احمد اویس کو بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کام جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت لکھ کر دے کہ احمد اویس کو کام سے نہیں روکے گی، عدالتتی حکم نامے میں کہا گیا کہ ا سسٹم کو اچھا بنائیں اور چلنے دیں ، کل کو یہ آپ کو بھی فیس کرنا پڑے گا، جس جگہ آپ آتے ہیں تو اس جگہ سے جانا بھی ہوتا ہے، میں نے کبھی یہ تنازعے نہیں دیکھے اب شروع ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں