The news is by your side.

Advertisement

سوئے منتہا وہ چلے نبیﷺ

خدا جب شعر کہنے کی صلاحیت دیتا ہے تو ہر شاعر کی خواہش ہوتی ہے کہ  کوئی ایسا کلام اس کے قلم کی زینت بن جائے جس کا چہار عالم میں ڈنکا ہو ، یہی خواہش عنبر شاہ وارثی کی بھی تھی اور اس خواہش کی تکمیل کچھ یوں ہوں کہ ‘سوئے منتہا وہ چلے نبی ‘جیسی مشہورِ زمانہ نعت انہوں نے کہی، اس نظم کو قلم بند کرنے کا واقعہ بھی انتہائی منفرد ہے۔

جناب محمد اقبال دیوان صاحب نے اپنی کتاب ’جسے رات لے اڑی ہوا‘  میں اس نعت کے شاعر جناب عنبر شاہ وارثی کا عجیب ایک واقعہ تحریر کیا ہے۔ انہی کی زبانی سنئے۔

 ایک دن ایک بڑے سے دفتر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا تھا جہاں کبھی کراچی کے میئر بیٹھا کرتے تھے۔ فون بجا تو ایک دفتری ساتھی نے اطلاع دی کہ مشہور زمانہ قوالی “سرِ لامکاں سے طلب ہوئی، سوئے منتہا وہ چلے نبیؐ، کوئی حد ہے ان کے عروج کی” کے خالق حضرت عنبر شاہ وارثی تشریف لائے ہیں۔ مشہور قوال برادران غلام فرید مقبول صابری نے اسے گا کر امر کردیا ہے۔ دفتری ساتھی انہیں ہمارے دفتر میں لے آیا۔ اس وقت ان کی عمر اسّی برس کے لگ بھگ تھی۔صحت اب بھی اچھی تھی۔ آنکھوں میں مسحور کردینے والی چمک اور شخصیت میں ایک جکڑ لینے والی گرفت تھی۔

ہم نے ان سے اس لاجواب نعت جو تب تک ایک قوالی کا روپ دھار کر بہت شہرت اختیار کرچکی تھی اس کے سرزد ہونے کی وارداتِ قلبی کا پوچھا۔ ارشاد فرمایا وہ ایک دن مسجد نبوی ﷺکے صحن میں عشا پڑھ کر بیٹھے تھے۔ دل پر یہ بوجھ تھا کہ ایک عمر گزری شاعری کرتے پر رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ طیّبہ پر کچھ ایسا کلام نہ کہہ سکے کہ زبان زدِعام ہو جائے۔

دل میں بہت سا حسد حضرت امیر خسرو سے بھی تھا کہ دوہے اور گیت، راگ اور ساز ہی ان کی شہرت کے لیے کیا کم تھے کہ وہ دلوں کو برمانے والی نعت بھی ان سے لکھوادی۔ حسد اور یاس کا یہ معاملہ ہمارے مہمان عنبر شاہ صاحب تک محدود نہ تھا۔ خود امیر خسروؔ بھی ایک دن اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیا کے سامنے باب شکوہ کھول کر بیٹھ گئے کہ ایرانی فارسی گو ابو مسلم عبداللہ الشیرازی المعروف بہ حضرت شیخ سعدی نے حیرت ناک طور پربغداد کے مدرسۂ نظامیہ کی سیکھی ہوئی عربی میں (جس میں ان کا کوئی اور کلام دستیاب نہیں) چار مصرعوں کی ایک رباعی (بطرز نعت) لکھی جو ہمہ وقت لوگوں کے گھروں اور محافل میں پڑھی جاتی ہے۔

 محبوب الٰہی ؓ یہ سن کر متبسم ہوئے اور آپ نے دعا دی کہ تم بھی کچھ ایسی ہی نعت لکھو گے کہ بعد کے آنے والے رشک کریں گے۔ گو سعدی کی اس نعت کا مقام تو بہت بلند ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ نے جو نعت لکھی ہے وہ تو

فرشتوں کی محافل میں بھی پڑھی جاتی ہے۔

بلغ العلٰی بکمالہ

آپ کے کمالات بھی بہت اعلیٰ مرتبت ہیں

کشف الدجیٰ بجمالہ

آپ کے کردار کے جمال سے ظلمت دور ہوگئی

حسنت جمیع خصالہ

اعلیٰ ترین انسانی خصائل آپ کا وصف تھے

صلو علیہ و آلہ

آپ پر اور آپ کی آل پر سلامتی اور رحمت ہو

اس تذکرے اور دعا کے بعد روایت ہے کہ امیر خسرو پر ایک ایسا عالم کسی شب طاری ہوا کہ انہوں نے وہ مشہور نعت لکھی کہ

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

نہ جانے کیا مقام تھا، جہاں کل شب میں تھا

بہ ہرسو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

ہر سو زخمی اہل دل،مانند پروانوں کے تڑپتے تھے

حضرت عنبر شاہ وارثی فرمانے لگے کہ یکایک ان کی نگاہ آسمان پر اٹھی، جہاں انہیں یہ الفاظ لکھے دکھائی دیے اور انہوں نے جیب سے ڈائری نکال کر قلم بند کرلیا۔ اگر آپ غور فرمائیں تو امیر خسروؔ کا یاد آنا اور اس حوالے سے حضرت عنبر شاہ وارثی کی یہ فر مائش اور پھر یہ نعت کا وجود میں آنا کہ جس کا ماحول اور جذب وہ شب معراج والاہی ہے جوامیر خسرو کی نعت کا ہے کہ

سہانی رات تھی، اور پُراثر زمانہ تھا

اثر میں ڈوبا ہوا، جذبِ عاشقانہ تھا

انہیں تو عرش پر محبوب کو بلانا تھا

سرِ لامکاں سے طلب ہوئی

سوئے منتہا وہ چلے نبی

کوئی حد نہ ان کے عروج کی

خاندانی نام سیّد عنبر علی، شہرت عنبر شاہ وارثی اور تخلص عنبر ہے۔ 1906ء میں سلطان الہند کی پریم نگری اجمیر شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد علامہ سیّد ظہور حسین چشتی اجمیری معروف صوفی بزرگ اور عالم دین تھے۔ ابتدائی تعلیم والد کی زیر تربیت ہوئی۔ بعدازاں دارالعلوم معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف جیسی اعلیٰ درس گاہ اور علی گڑھ یونیورسٹی سے بھی فیض حاصل کیا۔

عنبر شاہ وارثی 13 سال کی عمر میں داخل سلسلہ وارثیہ ہوئے۔ بتوسط حیرت شاہ وارثی یہ سعادت آپ کو حاصل ہوئی۔ حضرت خواجہ مقصود شاہ وارثی کے ہاتھوں 1947ء دیوہ شریف میں آپ کی احرام پوشی ہوئی۔ فن شعر گوئی میں اختر مودودی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔

وارث نگری کا عنبرؔ خوش نوا بروز پیر 5مئی 1993ء کو سحابِ اجل کی اوٹ میں چھپ گیا۔ آپ کا مزار میوہ شاہ قبرستان جونا دھوبی گھاٹ کراچی میں مرجع خلائق ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں