The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کا قتل، ڈاکٹر رمیش کمار کا بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان ہندو کاؤنسل کے سرپرست اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے بھارت میں قتل ہونے والے ہندوؤں کا مقدمہ عالمی سطح پر اٹھانے  اور بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ بھارت میں واقعہ پیش آنے کے ایک مہینے پانچ دن تک ہمیں متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کے لیے کوئی رسائی نہیں دی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کس بھی ملک میں اگر غیر ملکی کے ساتھ کچھ ہو تو حکومتیں حرکت میں آجاتی ہیں مگر بھارت میں قتل ہونے کے باوجود بھی مودی حکومت نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ ’دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو انسانیت کی تعلیم دیتا ہے، متاثرین کی آواز کو دبانا کسی بھی مذہب کی نشانی نہیں ہے، دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے سامنے مسئلے کو اٹھائیں جبکہ دنیا بھر میں رہنے والے ہندؤ بھی اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور احتجاج بلند کریں تاکہ عالمی دنیا کو معلوم ہوسکے کہ بھارت کہاں جارہا ہے‘۔

مزید پڑھیں: بھارت میں 11 پاکستانیوں کے قتل کا مقدمہ سانگھڑ میں درج

ہندو کاؤنسل کے سرپرست اعلیٰ نے اعلان کیا کہ پاکستان ہندوؤں کے خون کا حساب مانگیں اور دنیا بھر میں آواز اٹھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم 24 ستمبر کو بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کریں گے، ٹھیک 6 گھنٹے بعد پاکستان کے ہر ضلع سے قافلے روانہ شروع ہوں گے جو پرسوں تک اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو پہنچ جائیں گے۔

ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے احتجاج میں کرونا ایس او پیز پر عمل کریں گے اور دھرنے کو اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک بھارت تحقیقاتی رپورٹ پیش نہیں کردیتا، ہمارے مطالبے کے باوجود جودھ پور واقعہ کی شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ بھارتی پولیس خود کشی کا ڈرامہ رچا کر اصل حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے‘۔

خیال رہے کہ 9 اگست کو بھارت میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی میڈیا نے کہا تھا کہ پاکستان سے جانے والے ہندو راجستھان کے ضلع جودھپور میں رہائش پذیر تھے، جاں بحق ہونے والوں پورے خاندان کا صرف ایک فرد ہی زندہ بچا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں