The news is by your side.

Advertisement

پلوامہ حملے کی جعلی ویڈیو پکڑی گئی

نئی دہلی: مودی سرکار کی طرح بھارتی شہری بھی پلوامہ حملے کے بعد دنیا سے ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے پاکستان کے خلاف زہرافشانی کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چودہ فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہائی وے کے قریب مقامی نوجوان نے فوجی دستے کی گاڑیوں کو خود کش حملے کے ذریعے نشانہ بنایا جس میں 46 فوجی ہلاک جبکہ متعدد شدید زخمی ہوئے۔

کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی کمانڈر اور لیفٹننٹ جنرل نے خود بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تاریخ میں اتنا بڑا حملہ بھارتی فوج پر کبھی نہیں ہوا یہ پہلا موقع ہے جب فوج کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کے ایس ڈھلوں نے ساتھ ہی بھارتی ماؤں کو دھمکی دی کہ اگر حریت پسند نوجوانوں نے بھارتی فوج کے آگے سرینڈر نہ کیا تو انہیں مار دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجی کمانڈر کی کشمیری ماؤں کو دھمکی

اسی طرح بھارت نے بھی حملے کے فوری بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی جبکہ پاکستان نے پیش کش کی کہ اگر مودی حکومت کے پاس ٹھوس ثبوت و شواہد ہیں تو پیش کرے پاکستان کارروائی کرے گا۔

بھارت کے سوشل میڈیا صارفین بھی اپنی حکومت کی ڈگر پر چل پڑے اور انہوں نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی، ایک صارف نے سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ پلوامہ حملے کی ویڈیو ہے۔

مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور بھارتی صارفین اُسے حقیقت سمجھنے لگے مگر غیر ملکی ویب سائٹ نے سار ی حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ، سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

ویب سائٹ بوم لائیو کے مطابق مذکورہ دھماکا 2007 میں عراق میں ہوا تھا اور یہ خودکش نہیں بلکہ ایل ای ڈی دھماکا تھا جس میں امریکا اور اُس کے اتحادی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

ویڈیو کی اصل حقیقت

بھارتی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے جینسی جیکب نے بتایا کہ ’پلوامہ حملے سے متعلق بھارت میں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر وائرل ہونے والی ویڈیو جھوٹی ہے کیونکہ یہ حملہ عراق میں 2007 میں ہوا‘ْ

جیکب نے عندیہ دیا کہ اُن کی کمپنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بک سے رابطہ کرلیا تاکہ مذکورہ ویڈیو کو پلوامہ سے جوڑنے والے صارفین کے اکاؤنٹ بلاک کیے جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں