The news is by your side.

Advertisement

شدت پسند اماموں کو مساجد سے نکال دیا، سعودی وزیر

ماسکو: سعودی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ حکومت روشنی خیالی کی طرف گامزن ہے اس لیے اب تک انتہاء پسندانہ تقاریر کرنے والے  اماموں کو مساجد سے نکال کر انہیں نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔

روس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیری نے کہا کہ انتہاء پسندانہ تقاریر میں ملوث سینکڑوں مساجد سے اماموں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پورے ملک میں شدت پسندانہ  افراد کے خلاف اقدامات شروع کردیے ہیں جس کے تحت شدت پسندوں کی مالی معاونت اور اُن کے نظریے کا پرچار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

پڑھیں: سعودی عرب: سرکاری ٹی وی پر میوزیکل کنسرٹ نشر

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں بہتری لارہے ہیں اس لیے مذہبی تعلیمات کی غلط تشریح کرنے والے افراد کو تعلیمی اداروں سے ہٹایا جارہا ہے تاکہ ہمارے بچے روشن خیالی کی تعلیم حاصل کرسکیں۔

سعودی وزیرخارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم روسی حکومت کے ساتھ مل کر داعش جیسی انتہاء پسند تنظیم اور دیگر مسلح دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے، انہوں نے قطری حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قطر دہشت گردوں کو پشت پناہی فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے خلیجی ممالک نے اُن کا بائیکاٹ کیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں سنیما پر عائد پابندی ختم ہونے کا امکان

یاد رہے کہ سعودی حکومت 2030 کے ویژن پر عمل پیرا ہے جس کے تحت سعودی فرماں رواں نے خواتین کو گاڑی چلانے اور طالبات کو یونیورسٹیز میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت سینما گھروں کو جلد کھولنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں