زمبابوے میں قحط، بچے جنگلی پھل کھانے پرمجبور -
The news is by your side.

Advertisement

زمبابوے میں قحط، بچے جنگلی پھل کھانے پرمجبور

ہرارے: زمبابوے کے دیہاتیوں نے خشک سالی اورمتنازعہ زمینی اصلاحات کے سبب پڑنے والے قحط سے بچاوٗکے لئے اپنی روز مرہ کی خوراک میں کمی کردی ہے۔

رواں سال ہونے والی خشک سالی کے سبب جنوبی افریقہ کے کئی ممالک جن میں ملاوی، زمبابوے، نمیبیا اور بوتسوانا میں زراعت انتہائی کم رہی جس سےان ممالک میں قحط آگیا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق افریقہ کی کل آبادی یعنی 292 ملین میں 27.4 ملین افراد اس قحط سے متاثر ہوں گے یعنی افریقہ میں ہر دس میں سے ایک شخص رواں سال کے اختتام تک زندہ رہنے کے لئے خوراک کے امدادی تھیلوں پرانحصارکررہا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق زمبابوے کے 15 لاکھ افراد کوخوراک کے حصول کے لئے امداد کی ضرورت ہے۔

اس صورتحال کے سبب زمبابوے کے عوام نے اپنی غذامیں کمی کردی ہے 40 سالہ ربین کا کہنا ہے کہ پہلے ان کی زمین سے اس قدر مکئی پیدا ہو؎تی تھی کہ ان کے گھرانے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے 30 بورے مکئی وہ زخیرہ کرتی تھیں جبکہ اضافی مکئی بیچ کراپنی ضروریا ت کے لئے رقم حاصل کرتی تھیں تاہم اس سال ان کے پاس محض 10 بورے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے گھرمیں کھانا دو وقت کا کردیا ہے اور اس دوران ان کے بچوں کو بھوک لگتی ہے تو وہ جنگلی پھل کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ مکئی پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست زمبابوے بڑے پیمانے پر خوراک امپورٹ کرنے والا ملک بن گیا ہے جس کا سبب وہاں کے صدرروبرٹ موگابے کی جانب سے کی جانے والی زرعی اصلاحات کو قراردیا جارہاہے جن کے تحت سفید فام کسانوں سے زمینیں لے کر بے زمین سیاہ فام کسانوں میں تقسیم کی جارہی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں